سید محموداللہ شاہ — Page 151
151 دوست نے آپ کو بطور تحفہ دیا تھا۔اس کوٹ میں یہ خاصیت تھی سردی سے بھی بچاتا تھا اور بارش میں بھی استعمال ہوتا تھا ، جو طویل مدت تک کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ایک دفعہ آپ گھر آئے۔تو میں نے پوچھا کہ وہ اوور کوٹ کہاں ہے آپ کا؟ کہنے لگے کہ وہ تو فلاں دوست نے مانگا تھا۔اس نے کہیں جانا تھا میں نے اسے دے دیا ہے۔غرض کہ قیمتی سے قیمتی چیز بھی اگر کسی نے مانگ لی تو دے دیتے تھے۔دوسری بات جو میں نے آپ میں خاص طور پر دیکھی۔میں میکے میں بھی رہی سسرال میں بھی رہی۔اس کے بعد سے زندگی گزار رہی ہوں۔میں نے کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا۔جس کو کہ کوئی بھی دنیا کی چیز پسند نہ ہو۔آپ کا کوئی شوق نہیں تھا کہ میں مکان بنالوں، جائیداد بنا لوں، کوئی شوق نہیں تھا کہ میں دولت اکٹھی کرلوں۔کوئی شوق نہیں تھا کہ میرا بینک بیلنس ہو، یہ بات میں نے خاص طور پر آپ کی ذات میں مشاہدہ کی ہے۔اور اس بات پر میری کئی دفعہ ان سے لڑائی بھی ہوئی تھی۔میں نے کہا کہ مکان بنا لیں تو وہ کہتے کہ بہشت میں اللہ تعالیٰ مکان دے گا۔اس وقت ہم چنیوٹ میں تھے۔غرضیکہ انہیں کسی قسم کی عیش وعشرت کا قطعا شوق نہیں تھا۔انہیں اس طرح کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔مهمان نوازی ایک اور خوبی ان میں میں نے یہ مشاہدہ کی کہ آپ کو مہمان نوازی کا بہت شوق تھا۔جب کوئی آتا اسے بٹھا کر چائے پلاتے ، کھانا کھلاتے اگر کبھی میں نے کسی سے پوچھ لینا کسی سے چائے کا، تو انہوں نے ناراض ہونا کہ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ مہمان بے زبان ہوتا ہے۔قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی سے نصیحت پکڑنی چاہئے تو شاہ صاحب مجھے کہتے کہ پوچھ کے کیوں لاتی ہو بغیر پوچھے لایا کرو۔میں نے کہا بعض لوگ چائے پسند نہیں کرتے ہیں۔بعض کولڈ ڈرنکس تو کیا حرج ہے ہم چھٹے میں شاہ صاحب کہنے لگے جو چائے نہیں پیتے تم بعد میں ان کے لئے کولڈ ڈرنکس لے آنا مگر پوچھنا نہیں کسی سے۔مہمان سے پوچھنا آپ ہرگز پسند نہیں کرتے تھے۔بہت ہی زیادہ مہمان نواز تھے اور یہ بھی بہت شوق تھا کہ خود کچھ دیں کسی کو۔