سید محموداللہ شاہ — Page 132
132 وو تلملا رہا تھا تڑپ رہا تھا۔اس کی گود کیلئے۔یہ صاحب منزلت تفریڈ اپنے آقا کی گود میں چلا گیا۔لاکھوں پسماندگان، تیم بچوں کی حالت زار کا خاکہ کھینچنا میرے امکان سے باہر ہے۔بڑے بوڑھے جو ضبط اور تحمل کی تصویر بنے رہتے تھے دہاڑیں مار مار کر روتے۔ایک جوسب میں بڑا تھا عمر میں مرتبت کے لحاظ سے ، فضیلت و بزرگی کے اعتبار سے اور جو صاحب "وجية في حضرتی“ کا جانشین بنے والا تھا کہتے ہیں کہ اٹھا۔تاصبر وسکون کی تلقین کرے۔مگر اٹھتے ہی اس نے کیا تو یہ کیا کہ خود چیخ چیخ کر رونے لگ گیا۔یہ تھی صبر وسکون کی نصیحت۔بس پھر کیا تھا۔کہرام ہی تو مچ گیا۔یہ وقت کتنا ہی نازک ہے۔یہ سانحہ الم کتنا جاں گل ہے۔پتھر سے پتھر دل بھی ایسے وقت میں موم ہو جاتا ہے۔بدترین دشمن بھی تعصب و عناد کو بھول جاتا ہے۔تمام رنجشیں اور کاوشیں فراموش ہو جاتی ہیں۔مگر یہ واقعہ ہائکہ تو بالکل ایک نرالی نوعیت کا تھا۔رخصت ہونے والا رحمت۔۔۔۔تھا۔یہ در حقیقت کسی خاص قوم یا ملک کی طرف منسوب نہیں تھا۔یہ سب کا تھا اور سب کا یکساں ، وداع ہونے والے کیلئے عشاق کی اشک باری بے تعلق اور اجنبی لوگوں کو بھی ہزار ہزار آنسو رلاتی تھی۔تخلیق فطرت تو سب کی اچھی ہے۔مگر اس فطرت سے کام لینے والے۔اس کو استعمال کرنے والے یکساں نہیں۔چند سنگدل ، درندہ صفت مغضوب علیہم کی سند یافتہ شور و غوغا کرتے آ پہنچے۔نہ انہیں انسانیت کی لاج ہے۔نہ انہیں شرم و حیا۔انہوں نے ایسی ایسی بیہودہ حرکتیں کیں اور ایسے ایسے حیا سوز آوازے کیسے، سوانگ بھرے کہ غیر اور اجنبی ( یعنی غیر مذاہب والے ) بھی مارے خجالت کے پسینہ پسینہ ہور ہے۔اندر کمرہ میں اس ناموس الہی کی مقدس و معطر لاش ہے۔اور باہر اس قسم کا ننگ آدمیت مظاہرہ ہو رہا ہے۔لاکھ ضبط کیجئے۔مگر کسے یا رائے تحمل ہے۔اس بقعہ نور کے قریب اس کا لخت جگر اس کے حسن و احسان کا نظیر نشان رحمت و قدرت و قربت" کھڑا ہے۔اس کے غم کا اندازہ وہی کچھ کر سکتا ہے جو اس کی شان کو اور اس