سید محموداللہ شاہ — Page 116
116 وو وصال کے بارے میں ایک رؤیا برنا حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔پانچ دن کی بات ہے۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات ( یعنی ۱۲ اور ۱۳ دسمبر ۱۹۵۲ء کی درمیانی شب ) میں نے دیکھا کہ سید محمود اللہ شاہ صاحب مجھے ملنے آئے ہیں میں اور وہ بیٹھے ہیں۔پاس ہی غالباً میری وہ بیوی بھی ہیں جومحمود اللہ شاہ صاحب کی بھتیجی ہیں یعنی مہر آپا۔انہوں نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میری طبیعت آج اتنی خراب ہوگئی ہے کہ میں نے سکول کے لڑکوں سے کہ دیا ہے کہ ادھر ادھر دور نہ جایا کرو۔کہیں ایسانہ ہو کہ تمہارے پیچھے کوئی واقعہ ہو جائے۔اسی طرح میں آپ سے بھی کہتا ہوں کہ اگر آپ کا کہیں باہر جانے کا ارادہ ہو تو مجھے رخصت کر کے جائیں اور رخصت کے معنی اس وقت رویا میں جنازہ کے سمجھتا ہوں۔میں نے آنکھ کھلتے ہی اس رؤیا کا آخری حصہ ام متین کو بتا دیا جن کی باری اس رات تھی۔لڑکوں والے حصہ کا میں نے ان سے ذکر نہیں کیا۔جس وقت یہ رویا ہوا۔اس وقت خیال بھی نہیں گیا کہ ان کی موت اتنی قریب ہے۔اس رویا کے تیسرے دن ان کو Thrombosis کا حملہ ہوا جو ان کی موت کا باعث ہو گیا۔بعض اور خواہیں بھی اس عرصہ میں آئیں جو مجھے یاد تھیں۔مگر لکھوانے میں میں نے دیر کر دی اور وہ ذہن سے اتر گئیں۔بہر حال ان چند ہفتوں میں جور دیا ہوئے ان میں سے ایک تو دوسرے دن ہی اور ایک تیسرے دن پورا ہو گیا۔“ روزنامه الفضل لاہور ۲۴ / دسمبر ۱۹۵۲ ء صفحه ۲) وصال کی اطلاع آپ کی وفات باون سال کی عمر میں ۱۶ دسمبر ۱۹۵۲ء کو ہوئی۔آپ کے وصال پر روز نامہ الفضل نے لکھا: