سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 100 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 100

100 اور جو ( دعوت الی اللہ کے ) کام ہوں وہ (مربیان ) کے ذمے لگائے جائیں۔والد صاحب کو وہ دن بھی یاد تھے جب وہ اپنے کو تنہا محسوس کرتے اور اس تلاش ہیں رہتے کہ کوئی احمدی مل جائے۔اب اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت عطا کر دی تھی جو ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر نہ صرف (دعوت الی اللہ کے ) کاموں میں شامل تھی بلکہ ہر قسم کی مالی قربانی پر کمر بستہ تھی۔اب ان کو اذیت پہنچانے والے رشتہ داروں کے بجائے مومن اور پر ہیز گار رشتہ دار ملے۔ان دوستوں میں سے ایک کا ذکر کر چکی ہوں جو احمدی ہوئے اور بڑی بڑی رقمیں چندوں میں دیتے رہے۔ان میں سے ایک محمد اکرم غوری صاحب تھے۔آغا اکرم غوری صاحب نہایت شریف اور مخلص انسان تھے۔ایک دفعہ غوری صاحب سید محمود اللہ شاہ صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے۔اس وقت شاہ صاحب باہر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔انہوں نے غوری صاحب سے کہا کہ آؤ میں تمہیں ایک نیک ہستی سے ملاؤں۔شاہ صاحب غوری صاحب کو ہمارے گھر لائے اور اس طرح ان کی ملاقات والد صاحب سے ہوئی اور وہ والد صاحب سے بہت متاثر ہوئے اس بات کا ذکر انہوں نے اپنے خط میں کیا جو میرے پاس موجود ہے۔افریقہ میں غوری صاحب جماعت کے مختلف شعبوں میں کام کرتے رہے۔بہت ہی خوشخط تھے اور جماعت کے پمفلٹ وغیرہ انہی سے ہی لکھوائے جاتے۔انہوں نے اپنے ہاتھوں سے مکمل قرآن کی جلد لکھی ہے جسے دیکھ کر انسان کی روح خوش ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ لندن میں بھی غوری صاحب مختلف شعبوں میں کام کرتے رہے اور انہوں نے کئی انگریزی کتب کا ترجمہ کیا ہے۔غوری صاحب کا مالی قربانی کا اپنا ایک انوکھا انداز تھا۔ان کو تحریک نہیں کی جاتی بلکہ ان کی اولوالعزمی دوسروں کیلئے تحریک بن جاتی۔سیٹھ عثمان یعقوب میمن اور مشرقی افریقہ کے احباب کا تذکرہ بار اول ۱۹۹۹ء صفحہ ۵ تا ۵۳)