سید محموداللہ شاہ

by Other Authors

Page 32 of 179

سید محموداللہ شاہ — Page 32

32 خدمات سلسلہ کا ایک اجمالی جائزہ سيرة النبي علي العلم پر تقاریر (۱۹۳۸ء تا ۱۹۴۴ء) حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح حیات ، اعلیٰ اخلاق اور آپ کی پاکیز تعلیم سے آگاہ کرنے کیلئے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے ہر سال منعقد کئے جاتے ہیں۔سوامسال دسمبر ۱۹۳۸ء میں یہ جلسہ منایا گیا۔نیروبی میں سیرۃ النبی کے جلسہ میں ایک ہندو، ایک سکھ اور ایک عیسائی نے تقریر کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی بیان کئے۔ہندو دوست نے اپنی تقریر کے دوران میں حضرت (خلیفہ اسیح الثانی ) ایدہ اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر خراج تحسین ادا کیا اور احمدیت کے مسائل کے وزنی ہونے کا ذکر کیا۔علاوہ ازیں مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب نے انگریزی زبان میں تقریر کی اور بتایا کہ دنیا میں امن کس طرح قائم ہوسکتا ہے؟ اور اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور تعلیم کو پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ (دین حق کی تعلیم پر عمل کئے بغیر حقیقی امن کا قیام محال ہے۔امسال پہلی مرتبہ ممباسہ میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ منایا گیا جو باوجود سخت مخالفت کے نہایت کامیاب رہا اور غیر مسلم معززین شریک ہوئے۔مسٹر اسماعیل ٹریڈ کمشنر گورنمنٹ آف انڈیا اور دوسرے احباب نے تقریریں کیں۔اخبارات نے عمدہ الفاظ میں رپورٹیں شائع کیں۔شیخ صالح محمد صاحب اور مکرم با بومحمد عالم صاحب کی جدوجہد خاص طور پر قابل ذکر و شکر یہ ہے۔گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی براڈ کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا اور نیروبی براڈ کاسٹنگ اسٹیشن سے مکرم صاحب کی ایک تقریر دسمبر میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسہ کے دن شام کو براڈ کاسٹ کی گئی اور یوگنڈا ، ٹانگا نیکا کے مختلف مقامات میں علاوہ احمدیوں کے غیر از جماعت اور غیر مسلموں نے بھی اس تقریر کوسنا۔“