سید محموداللہ شاہ — Page 113
113 ” ربوہ میں نمازوں میں با قاعدگی ہوتی۔خاکسار کا اپنا تاثر ہے جب کبھی آپ سے ملاقات کرتا آپ کے دفتر میں جانا یا مجھے کوئی استاد آپ کی خدمت میں بھیجتا تو آپ کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور بیٹھنے کیلئے کرسی پیش کرتے۔ایسی عزت اور شفقت اللہ والے ہی کرتے ہیں۔خاکسار نے آپ سے ساتویں سے دسویں تک تلمذ حاصل کیا ہے آپ ہمیں انگریزی پڑھایا کرتے تھے۔دوران تدریس آپ کی زبان نہایت صاف اور خستہ ہوتی اور یوں محسوس ہوتا جیسے علم ہمیں گھول گھول کر پلا رہے ہیں۔آپ صاحب کشوف تھے۔ہم نے ان کی دعاؤں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قبول ہوتے دیکھا ہے۔آپ اپنی رہائش گاہ سے ہائی سکول چنیوٹ کیلئے جو لاہور روڈ پر واقع تھا۔اس کیلئے گھر سے پیدل درمیانی راستہ سے پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوتے سکول پہنچتے اور ٹانگہ پر بھی تشریف لاتے۔راستے میں مزار عین بھاگ بھاگ آپ سے مصافحہ کرتے۔حضرت مصلح موعود کی تشریف آوری جب ۱۹۴۹ ء میں نویں دسویں جماعت کی الوداعی پارٹی تھی۔اس وقت حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ لاہور سے تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت اماں جان اور غالباً حضرت ام ناصر بھی تھیں۔اس موقع پر خاکسار کی ڈیوٹی بھی لگائی گئی اس تقریب میں کھانا کھانے کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے دعا کروائی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ دوبار چنیوٹ سکول میں تشریف لائے۔۴۹۔۱۹۴۸ء میں ربوہ سے مکرم محمد دین صاحب اپنی کبڈی کی ٹیم لیکر ٹی آئی سکول کی کبڈی کی ٹیم سے میچ کھیلنے کیلئے چنیوٹ پہنچے اس وقت حضرت شاہ صاحب نے مجھے کبڈی کی ٹیم کا کپتان مقرر کیا۔اس دن بڑا دلچسپ میچ ہوا ہم ایک پوائنٹ سے میچ جیت گئے۔حضرت شاہ صاحب نے اس خوشی میں ہمیں دودھ پلایا اور ہماری اچھی سی دعوت بھی کی۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتے ہی آپ پر رقت طاری ہو جایا کرتی تھی۔