سوانح حضرت مسیح موعود و مہدی موعود علیہ السلام — Page 26
۲۶ جس پر متعدد نوجوانان احمدیت نے کمال ذوق و شوق سے لبیک کہا۔حضرت کا مضمون آریہ سماج کا نفرنس میں آریہ سماج لاہور نے دسمبر ۱۹۰۷ ء میں اپنے جلسہ سالانہ کے ساتھ ایک مذہبی کانفرنس کی جس میں حضرت اقدس مسیح موعود کا ایک پر معارف مضمون بھی پڑھا گیا۔جو سرتاپا امن و آشتی تھا مگر افسوس بدسگال آریہ سماجی نمائندہ نے اپنی تقریر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہایت شوخی اور بے باکی سے گالیاں دیں۔حضرت اقدس کو علم ہوا تو آپ نے اس مجلس میں بیٹھنے والے احمدی وند پر انتہائی خفگی کا اظہار کیا اور فرمایا: دو تمہیں اسی وقت کھڑے ہو جانا چاہیے تھا اور اس ہال سے باہر نکل آنا چاہیے تھا اور اگر وہ تمہیں نکلنے کے لئے راستہ نہ دیتے تو پھر ہال کو خون سے بھرا ہوا ہونا چاہیے تھا؟ حضور نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ چشمہ معرفت" کے نام نے ایک لاجواب کتاب لکھی جس کے شروع میں بد باطن آریہ نمائندہ کے اعتراضات کا مسکت جواب لکھا۔اور علم و معرفت کے دریا بہا دیے۔آخر میں اپنا اصل مضمون بھی شائع کیا تا موازنہ ہو سکے کہ آپ کے پیش فرموده پاک خیالات کے مقابل آریوں نے کس درجہ بے شرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔یہ کتاب ۱۵ مئی ۱۹۰۸ کو اشاعت پذیر ہوئی۔