سوشل میڈیا (Social Media)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 130

سوشل میڈیا (Social Media) — Page 105

Bassam نامی کی مثال پیش کرتا ہوں۔اُس نے بتایا کہ وہ ایک غیر احمدی مسلمان تھا اور اس کی اسلام میں بہت دلچپسی تھی۔وہ غیر احمد یوں کی مساجد میں جایا کرتا تھا لیکن وہ مسلمان ذاتی رنجشوں میں ملوث رہتے۔یہ دیکھ کر وہ بہت دل شکستہ ہو جاتا۔اُسے بہت دُکھ ہوتا اور وہ اس بات پر بہت افسوس بھی کرتا تھا۔کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُسے جماعت احمدیہ سے متعارف کروایا گیا۔چنانچہ وہ اپنی نمازیں ہماری مسجد میں ادا کر نے لگ گیا اور لوکل درس القرآن بھی سنتا اور ساتھ ساتھ لوکل احمدیوں نے اُسے تبلیغ بھی کی۔جلد ہی اس پر احمدیت کی سچائی ظاہر ہوگئی اور اس نے بیعت کر لی۔لیکن اس نے صرف بیعت پر ہی اکتفا نہ کیا اور نہ ہی اُس نے فقط بیعت کرنا کافی سمجھا بلکہ وہ تندہی کے ساتھ لوکل مسجد میں ایم ٹی اے دیکھتا رہا اور ایم ٹی اے دیکھنے کے نتیجہ میں وہ اتنا متاثر ہوا کہ چند مہینوں میں ہی پیسے جمع کر کے اپنے گھر میں سیٹلائیٹ ڈش لگوالی۔اُس نے بتایا کہ ہر پروگرام جو وہ جماعت احمدیہ کے بارہ میں دیکھتا اُس کے ایمان میں اضافہ کا باعث بنتا۔گو کہ وہ فرانسیسی زبان ہوتا ہے لیکن وہ ایسے پروگرام بھی دیکھتا جو فرانسیسی زبان میں نہیں تھے اور اُس نے ایم ٹی اے کا schedule مکمل حفظ کرلیا تھا۔اُس نے بتایا کہ میرے خطبات اُس کے لئے خاص طور پر اطمینانِ قلب کا باعث ہوتے اور اسی قسم کے دوسرے پروگرام بھی۔پس ہر احمدی مسلمان کو ایم ٹی اے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کو پہچاننا چاہئے اور اس کی ہرگز نا قدری نہیں کرنی چاہئے۔105