سوشل میڈیا (Social Media) — Page 10
سے کم تر پر اپنی برتری ظاہر کرنا، اپنی دولت کو اپنی جسمانی تسکین کا ذریعہ بنانا ، اپنی طاقت سے دوسروں کو زیرنگیں کرنا ہی مقصدِ حیات ہے۔یا ایک عام آدمی بھی جو ایک دنیا دار ہے جس کے پاس دولت نہیں وہ بھی یہی سمجھتا ہے بلکہ آج کل کے نوجوان جن کو دین سے رغبت نہیں دنیا کی طرف جھکے ہوئے ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جونئی ایجادات جو ہیں، ٹی وی ہے، انٹرنیٹ ہے، یہی چیزیں اصل میں ہماری ترقی کا باعث بننے والی ہیں اور بہت سے ان چیزوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔پس یہ انتہائی غلط تصور ہے۔اس تصور نے بڑے بڑے غاصب پیدا کئے۔اس تصور نے بڑے بڑے ظالم پیدا کئے۔اس تصور نے عیاشیوں میں ڈوبے ہوئے انسان پیدا کئے۔اس تصور نے ہر زمانہ میں فرعون پیدا کئے کہ ہمارے پاس طاقت ہے، ہمارے پاس دولت ہے، ہمارے پاس جاہ وحشمت ہے۔لیکن اس تصور کی خدا تعالیٰ نے جورب العالمین ہے، جو عالمین کا خالق ہے ، بڑے زور سے نفی فرمائی ہے۔فرمایا کہ جن باتوں کو تم اپنا مقصد حیات سمجھتے ہو یہ تمہارا مقصد حیات نہیں ہیں۔تمہیں اس لئے نہیں پیدا کیا گیا کہ ان دنیاوی مادی چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ اور دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 15 جنوری 2010ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن) مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 5 فروری 2010ء) 10