سوشل میڈیا (Social Media) — Page 9
تخلیق انسانی کا مقصد انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے، اس کے تقاضے کیا ہیں اور مقصد حیات کو حاصل کرنے کے ذرائع کیا ہیں؟ اس حوالہ سے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے متعدد مواقع پر اپنے خطبات جمعہ اور خطابات میں تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ نے احباب جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر یہ احسان عظیم ہے کہ انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر ایسا دماغ عطا فرمایا جس کے استعمال سے وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ باقی مخلوق اور ہر چیز کو نہ صرف اپنے زیرنگیں کر لیتا ہے بلکہ اس سے بہترین فائدہ اٹھاتا ہے اور ہر نیا دن انسانی دماغ کی اس صلاحیت سے نئی نئی ایجادات سامنے لا رہا ہے۔جو دنیاوی ترقی آج ہے وہ آج سے دس سال پہلے نہیں تھی اور جو دنیاوی ترقی آج سے دس سال پہلے تھی وہ 20 سال پہلے نہیں تھی۔اسی طرح اگر پیچھے جاتے جائیں تو آج کی نئی نئی ایجادات کی اہمیت اور انسانی دماغ کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔لیکن کیا یہ ترقی جو مادی رنگ میں انسان کی ہے یہی اس کی زندگی کا مقصد ہے؟ ہر زمانے کا دنیا دار انسان یہی سمجھتا رہا کہ میری یہ ترقی اور میری یہ طاقت، میری یہ جاہ و حشمت ، میرا دنیاوی لہو و لعب میں ڈوبنا، میرا اپنی دولت سے اپنے