سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 8

8 7 ایک صحابی کی قیصر کے مظالم سے نجات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی قیصر کے پاس قید تھے اور اس نے حکم دے دیا تھا کہ انہیں سور کا گوشت کھلایا جائے وہ فاقے برداشت کرتے تھے مگر سور کے قریب نہیں جاتے تھے اور گو اسلام نے یہ کہا ہے کہ اضطرار کی حالت میں سور کا گوشت کھالینا جائز ہے مگر وہ کہتے تھے کہ میں صحابی ہوں میں ایسا نہیں کر سکتا ، جب کئی کئی دن کے فاقوں کے بعد وہ مرنے لگتے تو قیصر ا نہیں روٹی دے دیتا۔جب پھر انہیں کچھ طاقت آ جاتی تو وہ پھر کہتا کہ انہیں سو ر کھلایا جائے اس طرح نہ وہ انہیں مرنے دیتا نہ جینے، کسی نے اسے کہا کہ تجھے یہ سر درد اس لئے ہے کہ تو نے اس مسلمان کو قید رکھا ہوا ہے اور اب اس کا علاج یہی ہے کہ تم عمر سے اپنے لئے دعا کراؤ اور ان سے کوئی تبرک منگواؤ۔جب حضرت عمر نے اسے ٹوپی بھیجی اور اس کے درد میں افاقہ ہو گیا تو وہ اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اس صحابی کو بھی چھوڑ دیا۔اب دیکھو کہاں قیصر ایک صحابی کو تکلیف دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی سزا کے طور پر اس کے سر میں درد پیدا کر دیتا ہے کوئی اور شخص اسے مشورہ دیتا ہے کہ عمر سے تبرک منگواؤ اور ان سے دعا کراؤ۔وہ تبرک بھیجتے ہیں اور قیصر کا درد جاتارہتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس صحابی کی نجات کے بھی سامان پیدا کر دیتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اس پر ظاہر کر دیتا ہے۔( سیر روحانی جلد دوم صفحه ۶۷) ایسا بھی ہوتا ہے۔۔۔۔؟؟ یہی کھانا جو انسان کے لئے قوت اور طاقت کا باعث بلکہ انسانی زندگی کا انحصار اسی پر ہوتا ہے جب کوئی اسے حد سے زیادہ استعمال کر لیتا ہے تو یہی اس کے لئے نقصان دہ اور ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔ہندؤوں کے ہاں شرادھ ہوتے ہیں۔سنا گیا ہے کہ بعض وقت شرطیں لگا لگا کر پنڈت اتنا کھا جاتے ہیں کہ پیٹ پھٹ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ایک برہمنی کسی خاندان میں بیاہی گئی ایک روز اس کی ساس نے اس کو کہا کہ اپنے سسر کے لئے بستر بچھا چھوڑو کہ وہ آج شرادھ کھانے گیا ہے جب کھا کر آتا ہے تو بیٹھ نہیں سکتا۔یہ سن کر بہو رونے اور پیٹنے لگی کہ میں کن کمینوں کے ہاں بیاہی گئی ہوں ہماری قوم کی تو انہوں نے ناک کاٹ دی۔ساس نے پوچھا تم کیوں روتی پیٹتی ہو۔کہنے لگی تمہارے ہاں میرے بیا ہے جانے سے تو ہمارے خاندان کی ناک کٹ گئی ہے۔ہمارے خاندان سے تو جو کوئی شرادھ کھانے جاتا ہے وہ خود چل کر گھر نہیں آسکتا بلکہ چار پائی پر اٹھا کر اسے لانا پڑتا ہے اور تم کہتی ہو کہ وہ شرادھ کھا کر آتے ہیں تو بیٹھ نہیں سکتے۔انہیں تو اتنا کھانا چاہیے کہ چل کر آ بھی نہ سکیں۔کھانا عمدہ چیز ہے مگر دیکھو اس کی بد استعمالی نے ایسے لوگوں کو کیسا نکما اور سست کر دیا۔خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۲۹۶ بحواله الفضل ۳۱ اکتوبر ۱۹۱۶ء) ☆☆☆ www۔alislam۔org ☆☆☆