سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 44

80 79 کہیں یہ گھر والے ہماری نقدی نہ چرا لیں۔اس لئے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ذرا ہوشیار رہنا اور جاگتے رہنا۔ایسا نہ ہو کہ ہم لوٹے جائیں۔ادھر میاں جو پیشہ میں قصاب تھا اس خیال سے کہ ہمارے مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو بیوی سے آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگا۔ان پادریوں کے پاس چونکہ روپیہ تھا انہوں نے سوچا کہ کہیں یہ لوگ ہمیں لوٹنے کی تجویز تو نہیں کر رہے اور کان لگا کر باتیں سننے لگے۔ان دونوں میاں بیوی نے دوسو ر پال رکھے تھے جو سور خانے میں تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دوسرے دن ذبح کر دیں۔اتفاق کی بات ہے کہ ایک سو رموٹا تھا اور ایک دبلا تھا۔اسی طرح ایک پادری بھی موٹا تھا اور ایک دبلا۔جب پادریوں نے کان لگا کر سننا شروع کیا تو اس وقت میاں بیوی آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے۔خاوند کہنے لگا میری بھی یہ صلاح ہے کہ ایک کو ذبح کر دیا جائے۔پادریوں نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے سمجھا کہ بس اب ہماری خیر نہیں۔یہ ضرور چھرالے کر ہم پر حملہ کر دیں گے اور ہمیں مار کر نقدی اپنے قبضہ میں کرلیں گے مگر انہوں نے کہا ابھی یہ فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں ذرا اور باتیں بھی سن لیں۔پھر انہوں نے کان لگائے تو انہوں نے سنا کہ بیوی کہہ رہی ہے پہلے کس کو ذبح کریں میاں نے کہا پہلے موٹے کو ذبح کرو پتلا جو ہے اسے چند دن کھلا پلا کر پھر ذبح کر دیں گے۔یہ بات انہوں نے جو نہی سنی وہ سخت گھبرائے اور انہیں یقین ہو گیا کہ اب ہمارے قتل کی تجویز پختہ ہو چکی ہے چنانچہ انہوں نے چاہا کہ کسی طرح اس مکان سے بھاگ نکلیں۔دروازے چونکہ بند تھے اس لئے دروازوں سے نکلنے کا تو کوئی راستہ نہ تھا۔وہ بالا خانہ پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے نظر جو ماری تو دیکھا کہ ایک کھڑی کھلی ہے۔بس انہوں نے جلدی سے اٹھ کر کھڑی میں سے چھلانگ لگا دی جو موٹا پادری تھاوہ پہلے گرا اور جود بلا پادری تھا وہ اس موٹے پادری کے اوپر آپڑا ہے کو تو کوئی چوٹ نہ گھی۔مگر موٹا جو پہلے گرا تھا اس کے پاؤں میں سخت موچ آ گئی اور وہ چلنے کے نا قابل ہو گیا۔یہ دیکھ کر دبلا پادری فوراً بھاگ کھڑا اور ساتھی کو کہتا گیا کہ میں علاقہ کے رئیس سے کچھ سپاہی مدد کے لئے لاتا ہوں تم فکر نہ کرو اور ادھر ادھر چمٹ کر اپنے آپ کو بچاؤ۔ادھر موٹے پادری کو یہ فکر ہوا کہ کہیں گھر والے چھری لے کر نہ پہنچ جائیں اور مجھے ذبح نہ کر دیں۔چنانچہ اس نے آہستہ آہستہ گھٹنا شروع کیا اور گھسٹتے گھسٹتے وہ اس سؤرخانہ کے پاس جا پہنچا جس میں میزبان کے سور بند تھے۔مگر اسے کچھ پتہ نہ تھا کہ اندر سور ہیں یا کیا ہے اس نے خیال کیا کہ میں یہاں چھپ کر بیٹھ جاتا ہوں تا کہ گھر والے میرا تعاقب کرتے ہوئے مجھے دیکھ نہ لیں۔جب اس نے سورخانہ کا دروازہ کھولا تو سور ڈر کے مارے نکل بھاگے اور یہ اندر چھپ کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ قصاب چھری لے کر موٹے سور کو ذبح کرنے کیلئے وہاں پہنچ گیا۔پادری نے سمجھا کہ اب میری خیر نہیں یہ ضرور مجھے مارڈالے گا۔چنانچہ وہ اور زیادہ دبک کر کونے میں چھپ گیا۔قصاب نے ڈنڈا ہلایا اور کہا نکل نکل۔مگر وہ اور زیادہ سمٹ سمٹا کر ایک طرف ہو گیا وہ حیران ہوا کہ سو رنکلتا کیوں نہیں مگر خیر اس نے اور زیادہ زور سے ڈنڈا پھیرا اور آواز دے کر سو رکو باہر نکالنا چاہا اور آخر گھسیٹ کر باہر نکال لیا۔پادری نے سمجھ لیا کہ اب کوئی چارہ نجات کا نہیں اب میرے ذبح ہونے کا وقت آ گیا ہے اور وہ آخری کوشش کے طور پر قصاب کے آگے ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں پادری ہوں میں نے تمہارا کوئی قصور نہیں کیا۔خدا کے لئے معاف کرو۔ادھر قصاب نے جب دیکھا کہ سور کی بجائے اندر سے ایک آدمی نکل آیا ہے تو وہ سخت حیران ہوا اور اس نے سمجھا کہ یہ کوئی فرشتہ ہے جو میری جان نکالنے کیلئے یہاں آیا ہے چنانچہ وہ ڈر کر دوزانو ہو کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور ہاتھ جوڑ کر درخواست کرنے لگ گیا کہ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو ابھی میں مرنے کے قابل نہیں مجھے اپنے کام درست کر لینے دو اور اپنے گناہوں سے تائب ہو لینے دو۔اب یہ عجیب نظارہ تھا کہ www۔alislam۔org