سوچنے کی باتیں — Page 45
82 81 ایک طرف پادری ہاتھ جوڑے جارہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو اور دوسری طرف وہ قصاب ہاتھ جوڑ رہا تھا اور کہہ رہا تھا خدا کے لئے مجھے پر رحم کرو۔تھوڑی دیر تو وہ اسی طرح ایک اللہ کا دیا سب کچھ ہے دوسرے کی منتیں سماجتیں کرتے رہے اور گھبراہٹ میں نہ وہ اس کی سنتا تھا اور نہ یہ اس کی۔مگر آخر صبر وقناعت کا مجسمہ ایک بڑھیا دونوں کے ہوش کچھ بجا ہونے لگے اور انہوں نے دیکھا کہ نہ وہ اس کو ذبح کرتا ہے اور نہ یہ اس کی جان نکال رہا ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہے ہیں۔یہ دیکھ کر ان کی عقل کچھ پکانے لگی اور حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور قصاب نے جو غور کیا تو اپنے سامنے رات والا پادری بیٹھا دیکھا اور حیرت سے پوچھا کہ تم یہاں کہاں۔اس نے کہا کہ رات کو ہم نے تم میاں بیوی کو یہ کہتے ہوئے سن پایا تھا کہ موٹے کو صبح ذبح کر دیں گے اور دبیلے کو کچھ دن کھلا پلا کر۔اس لئے ہم کھڑکی سے کود کر بھاگے اور میرا چونکہ پاؤں چوٹ کھا گیا تھا میں اس سؤرخانہ میں چھپ کر بیٹھ گیا اور میرا ساتھی فوج کی مدد لینے گیا ہے۔اس پر قصاب نے بے اختیار ہنسنا شروع کیا اور بتایا کہ ان کے دوسو ر ہیں ایک موٹا اور ایک دبلا۔وہ تو ان سوروں میں سے موٹے کے ذبح کرنے کی تجویز کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ اس لئے بول رہے تھے کہ مہمانوں کی نیند خراب نہ ہو۔اتنے میں سرکاری سوار بھی آگئے اور اس حقیقت کو معلوم کر کے سب ہنستے ہنستے لوٹ گئے۔یہی حال ستارہ پرستوں کا ہے۔اللہ میاں نے ان کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقرر کیا ہے اور وہ انسان کی خدمت کر رہے ہیں مگر انسان ہے کہ ان کے آگے ہاتھ جوڑ رہا ہے اور کہ رہا ہے کہ خدا کے لئے ہم پر رحم کرو۔گویاستارے اس کے غلام بن رہے ہیں اور یہ ان کا غلام بن رہا ہے۔سیر روحانی جلد اول صفحہ ۷۶-۷۹) حضرت خلیفہ مسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک بڑھیا تھی جو بڑی نیک اور عبادت گزار تھی۔میں نے ایک دفعہ اس سے کہا کہ مائی مجھے کوئی خدمت بتاؤ۔میں چاہتا ہوں کہ اگر تمہاری کوئی خواہش ہو تو اس کو پورا کر کے ثواب حاصل کروں۔وہ کہنے لگی۔اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔میں نے پھر اصرار کیا اور کہا کہ کچھ تو بتاؤ۔میری بڑی خواہش ہے کہ میں تمہاری خدمت کروں۔وہ کہنے لگی۔نور الدین! مجھے اور کیا چاہیے کھانے کیلئے روٹی اور اوڑھنے کیلئے لحاف کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ مجھے دو روٹیاں بھجوا دیتا ہے۔ایک میں کھا لیتی ہوں اور ایک میرا بیٹا کھا لیتا ہے۔اور ایک لحاف ہمارے پاس موجود ہے جس میں ہم دونوں ماں بیٹا سو رہتے ہیں۔میں ایک پہلو پر سوئے ہوئے تھک جاتی ہوں تو کہتی ہوں۔بیٹا! اپنا پہلو بدل لے اور میں دوسرے پہلو پر ا جاتی ہوں۔اس کا ایک پہلو تھک جاتا ہے تو وہ مجھے کہتا ہے اور میں اپنا پہلو بدل لیتی ہوں۔بس بڑے مزے سے عمر گذر رہی ہے اور کسی چیز کی کیا ضرورت ہے۔میں نے پھر اصرار کیا تو کہنے لگی اچھا۔اگر تم بہت ہی اصرار کرتے ہو تو پھر مجھے ایک موٹے حرفوں والا قرآن لا دو۔میری نظر اب کمزور ہو گئی ہے اور بار یک حروف نظر نہیں آتے۔موٹے حرفوں والا قرآن مل جائے تو میں آسانی سے قرآن پڑھ سکوں گی۔اب ایک طرف اس بڑھیا کی حالت کو دیکھو اور دوسری طرف اس امر کو سوچو کہ اب اگر کوئی چار سو روپیہ ماہوار کماتا ہے تو وہ www۔alislam۔org