سوچنے کی باتیں — Page 43
78 77 تھا ہر ہر سہ لعنت تو آپ کی مراد تو یہ تھی کہ ابو بکر عمر اور عثمان پر لعنت ہو مگر جب میں نے بے وقوف مشرک۔فرانسیسی پادری بر ہر سہ لعنت کہا تو میرا مطلب یہ تھا کہ وزیر پر بھی لعنت ہو اور بادشاہ پر بھی اور مجھ پر بھی جو ایسے گندے لوگوں کے گھر میں آ گیا ہوں۔غرض شیعوں کا یہ طریق کہ صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں اور اکابر صحابہ کو منافق کہتے ہیں نا پسندیدہ اور مذکورہ بالا آیت قرآنی کے خلاف ہے۔حضرت علیؓ کا درجہ بلند ماننے کے لئے اس کی کیا ضرورت ہے کہ حضرت ابوبکر عمر اور عثمان رضوان اللہ علیہم کو منافق کہا جائے اس کے بغیر بھی شیعیت قائم رہ سکتی ہے۔خلاصہ یہ که قرآن کریم نہایت واضح طور پر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے جو پاک بندے گذر چکے ہیں تمہیں ان کے متعلق دعاؤں سے کام لینا چاہیے اور کہنا چاہیے کہ خدا یا ہمارے دلوں میں ان کے متعلق بغض پیدا نہ ہو کیونکہ اگر بغض پیدا ہوا تو ایمان ضائع ہو جائے گا۔(سیر روحانی جلد اول صفحہ ۲۱۸ - ۲۱۹) کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی آقا اپنے نوکر سے ڈر رہا ہو اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتا پھرتا ہو یا کوئی افسر اپنے چپڑاسی کی منتیں کرتارہتا ہو اور اگر تم کسی کو ایسا کرتے دیکھو تو کیا تم نہیں کہو گے کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔پھر تمہیں کیوں اتنی موٹی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ وَسَخَّرَ لَكُمُ ہم نے تو ان تمام چیزوں کو تمہارا غلام بنا کر دنیا میں پیدا کیا ہے اور ان سب کا فرض ہے کہ وہ تمہاری خدمت کریں۔بے شک یہ بڑی چیزیں ہیں مگر جس ہستی نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے بھی بڑی ہے۔اس نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت کیلئے پیدا کیا ہے مگر تمہاری عجیب حالت ہے کہ تم الٹا انہی کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہے ہو۔قرآن کریم نے جو شرک کی اس بے ہودگی کی طرف اس زور سے توجہ دلائی ہے، مجھے اس کے متعلق ایک قصہ یاد آ گیا وہ بھی بیان کرتا ہوں کہ اس سے مشرکوں کی بے وقوفی پر خوب روشنی پڑتی ہے وہ قصہ یہ ہے کہ فرانس میں دو پادری ایک دفعہ سفر کر رہے تھے کہ سفر کرتے کرتے رات آ گئی اور انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ کہیں رات آرام سے بسر کریں اور صبح پھر اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوجائیں۔انہوں نے ایک مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے ایک عورت نکلی۔انہوں نے کہا ہم مسافر ہیں صرف رات کاٹنا چاہتے ہیں اگر تکلیف نہ ہو تو تھوڑی سی جگہ کا ہمارے لئے انتظام کر دیا جائے ہم صبح چلے جائیں گے۔اس نے کہا جگہ تو کوئی نہیں۔ایک ہی کمرہ ہے جس میں ہم میاں بیوی رہتے ہیں مگر چونکہ تمہیں بھی ضرورت ہے اس لئے ہم اس کمرہ میں ایک پردہ لٹکا دیتے ہیں ایک طرف تم سوتے رہنا۔دوسری طرف ہم رات گزار لیں گے۔چنانچہ اس نے پردہ لٹکا دیا اور وہ دونوں اندر آ گئے۔اتفاق یہ ہے کہ ان کے پاس کچھ روپے بھی تھے۔اب جب وہ سونے کے لئے لیٹے تو انہیں خیال آیا کہ www۔alislam۔org