سوچنے کی باتیں — Page 42
76 75 ایک خطرناک عقیدہ دو۔وزیر نے کہا میں دے تو دوں مگر یہ شخص شکل سے سنی معلوم ہوتا ہے بادشاہ نے کہا تمہیں کس طرح معلوم ہوا وہ کہنے لگا بس شکل سے میں نے پہچان لیا ہے۔بادشاہ نے کہا اچھا تو اس کا امتحان کر لو۔چنانچہ وزیر نے حضرت علی کی فضیلت بیان کرنی شروع کر دی وہ سنی جو کہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے بزرگ بھی شوق سے سنتے رہے اور کہنے لگے حضور حضرت علی کی شان میں کیا شبہ ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں تب مومن سمجھوں گا جب تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لئے دعائیں کرتے رہو گے اور ان کا کینہ اور بغض اپنے دلوں میں نہیں رکھو گے مگر آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان سے کینہ اور بغض رکھنا ہی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔اب تھوڑے دنوں تک محرم کا مہینہ آنے والا ہے۔ان ایام میں کس طرح تبرا کیا جاتا اور ابوبکر، عمر اور عثمان کو گالیاں دی جاتی ہیں۔حالانکہ قرآن یہ کہتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ان کے متعلق دل میں کسی قسم کا بغض نہ ہو اور نہ صرف بغض نہ ہو بلکہ انسان محبت اور اخلاص کے ساتھ ان کے لئے ہمیشہ دعائیں مانگتا ر ہے۔ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک شیعہ بادشاہ کے پاس ایک دفعہ ایک سنی بزرگ گئے اور اس سے امداد کے طالب ہوئے۔وہ آدمی نیک تھے مگر چونکہ ان کا گزارہ بہت مشکل ہوتا تھا۔اس لئے انہیں خیال آیا کہ میں بادشاہ کے پاس جاؤں اور اس سے کچھ مانگ لاؤں۔وہ گئے تو وہاں اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے جو اپنی حاجات کے لئے آئے ہوئے تھے مگر وہ سب شیعہ تھے اور یہ سنی۔جب بادشاہ مال بانٹنے کیلئے کھڑا ہوا تو وزیر نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہا اور اس نے اس سنی بزرگ کے علاوہ باقی سب کو مال تقسیم کر دیا اور وہ ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے۔یہ سنی بزرگ وہیں کھڑے رہے۔آخر جب انہیں کھڑے کھڑے بہت دیر ہوگئی تو بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اسے بھی کچھ دے کر رخصت کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور آپ کے داماد تھے خدا تعالیٰ نے انہیں خلافت عطا فرمائی۔آپ کی شان سے تو انکار ہو ہی نہیں سکتا۔بادشاہ کہنے لگا اب تو ثابت ہو گیا کہ یہ شیعہ ہے۔وزیر کہنے لگا ابھی نہیں میں بعض اور باتیں بھی دریافت کرلوں۔چنانچہ اس نے اور کئی باتیں کیں مگر وہ بھی ان سب کی تصدیق کرتے چلے گئے بادشاہ نے کہا۔بس اب تو تمہیں یقین آ گیا ہوگا کہ یہ سنی نہیں بلکہ شیعہ ہے۔وزیر کہنے لگا ابھی نہیں۔تبرا دے کر دیکھیں اگر یہ تبرے میں شامل ہو گیا تو پتہ لگ جائے گا کہ شیعہ ہے اور اگر شامل نہ ہوا تو معلوم ہو جائے گا کہ سنی ہے۔چنانچہ بادشاہ نے کہا بر ہرسہ لعنت۔یعنی نعوذ باللہ حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان پر لعنت۔وزیر نے بھی کہا بر ہر سہ لعنت۔وہ بزرگ سنی بھی بول اٹھے کہ بر ہر سہ لعنت۔بادشاہ نے کہا اب تو یقینی طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ شیعہ ہے۔وزیر نے کہا حضور میرا اب بھی یہی خیال ہے کہ یہ شخص منافقت سے کام لے رہا ہے وہ کہنے لگا اچھا تو پھر اس سے پوچھو کہ تم کون ہو۔وزیر نے پوچھا کہ کیا آپ شیعہ ہیں وہ کہنے لگے نہیں۔میں تو سنی ہوں۔وزیر کہنے لگا کہ مجھے آپ کی اور باتیں تو سمجھ آگئی ہیں کہ جب میں حضرت علی کی تعریف کرتا تھا تو آپ اس لئے اس تعریف میں شامل ہو جاتے تھے کہ حضرت علی آپ کے نزدیک بھی واجب التعظیم ہیں مگر جب ہم نے یہ کہا کہ بر ہر سہ لعنت تو آپ نے بھی بر ہر سہ لعنت کہا۔اس کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آئی۔وہ کہنے لگے جب آپ نے کہا www۔alislam۔org