سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 4

دیباچه حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ کا دور خلافت نصف صدی پر محیط ہے۔اس دوران آپ نے سینکڑوں ہزاروں تقاریر اور خطبات ارشاد فرمائے۔آپ کے بارے اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا تھا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتلایا گیا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“۔ان الہامات کی شان و شوکت آپ کے پر معارف خطبات و تقاریر میں بھی نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت بیان کا غیر معمولی ملکہ عطا فرمایا تھا۔گھنٹوں آپ تقریر فرماتے لیکن مجال ہے کہ سننے والا اکتائے یا تھکن کا اظہار کرے۔مشکل سے مشکل مضمون کو بہت سادگی اور سلاست سے بیان کرنا آپ کی خوبی تھی۔اور آٹھ آٹھ گھنٹے کی طویل تقریروں میں سامعین کو مسلسل محور کھنا اور ان کی دلچسپی اور ذوق و شوق کے عالم کو برقرار رکھنا بھی آپ ہی کا کمال تھا۔انہیں تقاریر و خطابات میں آپ کا یہ بھی انداز بیان تھا کہ دورانِ تقریر کوئی لطیفہ، چکلہ یا تاریخی واقعہ بیان فرماتے جس سے نہ صرف سننے والوں کی دلچسپی بڑھ جاتی بلکہ بعض اوقات زیر بحث مضمون سامعین کی ذہنی سطح کے قریب تر ہو کر بہت آسانی سے واضح ہو جاتا۔ایسے واقعات کی ایک یہ بھی اہمیت ہوتی ہے کہ کبھی کبھی طویل مضمون سے بھی بڑھ کر اپنا اثر دکھاتے ہیں اور ذہنی انقلاب کے لئے ایک مہمیز کا کام دیتے ہیں۔یہ کتاب جو پیش کی جارہی ہے اس میں کچھ ایسے ہی واقعات کا انتخاب پیش کیا گیا ہے جو حضرت امام جماعت احمد یہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے اپنی تقاریر کے دوران بیان فرمائے۔احباب جماعت کے افادہ علم کی خاطر ان کو الگ کر کے شائع کیا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ واقعات پڑھنے اور ان کی اصل روح کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین www۔alislam۔org