سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 38

68 67 خدا کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں دنیا کا ذرہ ذرہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔بے شک بادی النظر میں بعض چیزیں قابل اعتراض نظر آئیں گی۔لیکن جب بھی غور کیا جائے گا۔انسان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا ہر کام بے عیب اور پر حکمت ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی ملا دماغ کا آدمی ایک دفعہ باغ میں گیا اور اس نے دیکھا کہ آم کے درخت پر تو چھوٹے چھوٹے پھل لگے ہوئے ہیں اور ایک معمولی سی بیل کے ساتھ بڑا ساحلوہ کدوںلگا ہوا ہے وہ دیکھ کر یہ کہنے لگا کہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بڑا حکیم ہے مگر مجھے تو اس میں کوئی حکمت نظر نہیں آتی کہ اتنے بڑے درخت کے ساتھ تو چھوٹے چھوٹے پھل لگے ہوئے ہوں اور اتنی نازک سی بیل کے ساتھ اتنا بڑا حلوہ کدولگا ہوا ہو۔اس کے بعد وہ آرام کرنے کے لئے اسی آم کے درخت کے نیچے سو گیا۔سویا ہوا تھا کہ اچانک ایک آم ٹوٹا اور زور سے اس کے سر پر آلگا وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا اور کہنے لگا خدایا مجھے معاف فرما۔اب تیری حکمت میری سمجھ میں آگئی ہے اگر اتنی دور سے حلوہ کدو میرے سر پر پڑتا تو میں تو مر ہی جاتا۔غرض اس عالم کا ذرہ ذرہ گواہی دے رہا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔☆☆☆ مهمان نوازی جس سے خدا خوش ہو گیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث میں مسلمانوں کو مہمان نوازی کی بار بار تلقین کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس حکم پر اس طرح عمل کیا جاتا تھا کہ جو مسافر آتے وہ مسجد میں آ کر ٹھہر جاتے اور روزانہ یہ اعلان کر دیا جاتا کہ آج مسجد میں اس قدر مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں جس جس کو توفیق ہو وہ انہیں اپنے گھروں میں لے جائے اور ان کی مہمانی کرے۔ایک دفعہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا مسجد میں ایک مہمان آ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی طرف دیکھ کر فرمایا۔کیا اس مہمان کو اپنے گھر لے جا سکتے ہو۔اس نے عرض کیا کہ بہت اچھا۔چنانچہ وہ اسے لے کر گھر پہنچا اور بیوی سے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سپرد آج ایک مہمان کیا ہے کیا گھر میں کچھ کھانے کے لئے موجود ہے اس نے کہا کہ بس ایک آدمی کا کھانا ہے میری تو یہ خواہش تھی کہ آج میں اور تم دونوں فاقہ کرتے اور کھانا بچوں کو کھلا دیتے مگر اب چونکہ مہمان آ گیا ہے اس لئے اب کھانا مہمان کو کھلا دیتے ہیں اور بچوں کو کسی طرح تھی پکا کر میں سلا دیتی ہوں۔صحابی نے کہا یہ تو ہو جائے گا مگر ایک بڑی مشکل ہے بیوی نے پوچھا وہ کیا۔خاوند کہنے لگا۔جب یہ کھانا کھانے بیٹھا تو اصرار کرے گا کہ ہم بھی اس کے ساتھ کھانا کھائیں پھر ہم کیا کریں گے۔(اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) بیوی کہنے لگی کہ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے اور وہ یہ کہ جب وہ کھانے بیٹھے تو میں اور تم دونوں اس کے ساتھ بیٹھ جائیں گے اس وقت تم مجھے کہنا کہ روشنی کم ہے فتیلہ ذرا اوپر کر دو۔اور میں روشنی کو تیز کرنے کے بہانے سے اٹھوں گی اور چراغ کو بجھا دوں گی تا کہ اندھیرا ہو جائے اور وہ دیکھ نہ سکے www۔alislam۔org