سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 18

28 27 نہایت خطرہ میں پڑ گئی تو دو جرنیل آئے اور انہوں نے اس کے گھوڑے کی باگیں پکڑ لیں اور کہا کہ اب ملک کی خیر خواہی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس بارہ میں آپ کی اطاعت نہ کریں۔یہ کہا اور نپولین کے گھوڑے کو ایڑ لگا کر دوڑاتے ہوئے میدان سے لے گئے۔( خطبات محمود جلد ۲ صفحه ۴۰ ۴۱ بحواله الفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۱۸ء) جماعت کی برکت نپولین ایک بادشاہ گذرا ہے۔اس کی نسبت مؤرخوں نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے۔وہ فرانس کا بادشاہ تھا۔اس نے روس پر حملہ کیا۔روسیوں نے یہ طریق اختیار کیا کہ اپنے گاؤں اور شہروں کو جلاتے جاتے اور آگے آگے نکلتے جاتے۔چونکہ روس کا ملک بہت وسیع ہے اور اس کا شمالی حصہ ایسا خطرناک ہے کہ اگر کوئی واقف کار نہ ہو تو برف کی وجہ سے انسان ہلاک ہو جاتے ہیں اس لئے وہاں تک پہنچ کر نپولین کی بہت سی فوج تباہ ہوگئی۔اس وقت روسیوں نے نپولین کی فوج پر حملے کرنے شروع کر دیئے اور اسے بہت تنگ کیا۔حتی کہ وہ واپس ہونے پر مجبور ہوگئی اور اسے بہت جلدی واپس آنا پڑا۔راستہ میں ایک جگہ ایسی تنگ ہوئی کہ بیٹھنے تک کے لئے جگہ نہ میسر ہو سکی کیونکہ تمام اردگرد دلدل تھی۔اگر زمین پر بیٹھیں تو کپڑے اور ہتھیار کیچڑ سے بھر جاتے تھے اور اگر نہ بیٹھیں تو اتنے تھک گئے تھے کہ چلنے کی طاقت نہ تھی۔اس وقت نپولین نے یہ تجویز کی کہ وہاں ایک کرسی تھی اس پر ایک شخص کو بیٹھا دیا۔دوسرے کو اس کے گھٹنوں پر۔تیسرے کو دوسرے کے گھٹنوں پر حتی کہ اس طرح ایک وسیع حلقہ میں لوگوں کو بٹھا دیا۔آخری آدمی کے گھٹنوں پر اس پہلے شخص کو بٹھا کر کرسی اس کے نیچے سے نکال لی اور اس پر خود بیٹھ گیا۔اس طرح تمام فوج نے آرام بھی کر لیا اور سامان بھی خراب نہ ہوا۔تو جماعت کے ساتھ وابستہ ہونے میں بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں اور بعض تو ایسے فوائد پہنچتے ہیں جن کا پتہ بھی نہیں لگتا کہ یہ بھی کوئی بوجھ تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔لیکن اگر اس کام کوفرڈ افرڈ ا کرنے لگو تو بہت مشکل پیش آ جاتی ہے۔( خطبات محمود جلد ۵ صفحه ۱۱۲ ۱۱۳ بحوالہ الفضل ۳۰ مئی ۱۹۱۶ء) www۔alislam۔org