سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 15

22 21 ہنوز دلی دور است حضرت نظام الدین صاحب اولیاً جو دتی کے ایک بہت بڑے بزرگ گذرے ہیں، ان کے زمانہ کا بھی ایک بادشاہ غیاث الدین تغلق ان کا مخالف ہو گیا۔وہ اس وقت بنگال کی طرف کسی جنگ پر جارہا تھا۔اس نے کہا جب میں واپس آؤں گا تو انہیں سزا دونگا۔ان کے مریدوں نے یہ بات سنی تو وہ بڑے گھبرائے اور انہوں نے شاہ صاحب سے آ کر کہا کہ حضور جو لوگ شاہی دربار میں رسوخ رکھتے ہیں اگر ان کے ذریعہ بادشاہ کے پاس سفارش ہو جائے تو بہتر ہوگا۔آپ نے فرمایا: ہنوز دلی دور است۔ابھی تو اس نے لڑائی کے لئے جانا ہے اور پھر دشمن سے جنگ کرنی ہے۔ابھی سے کسی فکر کی کیا ضرورت ہے۔اس وقت تو وہ دتی میں موجود ہے اور لڑائی کے لئے گیا بھی نہیں۔پھر آٹھ دس دن اور گزر گئے تو مرید پھر گھبرائے ہوئے آپ کے پاس آئے اور کہا: حضور اب تو آٹھ دس دن گذر چکے ہیں اور بادشاہ لڑائی کے لئے جاچکا ہے اب تو کوئی علاج سوچنا چاہئے۔مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دتی دور است۔آخر جس جنگ پر وہ گیا تھا اس کے متعلق خبر آگئی کہ اس میں بادشاہ کو فتح حاصل ہوگئی ہے اور وہ واپس آ رہا ہے۔مرید پھر گھبرائے ہوئے آپ کے پاس پہنچے اور بادشاہ کی واپسی کی خبر دی۔مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دتی دور است۔ابھی تو وہ دو چار سو میل کے فاصلہ پر ہے۔ابھی کسی فکر کی کیا ضرورت ہے۔جب وہ آٹھ دس منزل کے فاصلہ پر پہنچ گیا تو وہ پھر آئے اور انہوں نے کہا کہ اب تو وہ بہت قریب آ گیا ہے۔آپ نے فرمایا: ہنوز دلی دور است۔جب وہ اور زیادہ قریب آ گیا اور دو تین منزل تک پہنچ گیا تو پھر آپ کے مرید سخت گھبراہٹ کی حالت میں آپ کے پاس پہنچے مگر آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دتی دور است۔آخر ایک دن پتہ لگا کہ بادشاہ کی فوجیں فصیل کے باہر ٹھہر گئی ہیں۔ان کے مرید یہ خبر سن کر پھر آپ کے پاس آئے اور کہا حضور اب تو وہ دتی کی فصیلوں تک آپہنچا ہے۔آپ نے فرمایا: ہنوز دتی دور است۔ابھی تو وہ فصیل کے باہر ہے۔اندر تو داخل نہیں ہوا کہ ہمیں گھبراہٹ ہو۔اسی رات ولی عہد نے فتح کی خوشی میں ایک بہت بڑی دعوت کی اور شاہانہ جشن منایا۔ہزاروں لوگ اس دعوت اور رقص وسرور کی محفل میں شریک ہوئے۔ولی عہد نے اس دعوت کا انتظام ایک بہت بڑے محل کی چھت پر کیا تھا۔چونکہ چھت پر بہت زیادہ لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، اس لئے اچانک چھت نیچے آگری اور بادشاہ اور اس کے رفقاء سب دب کر ہلاک ہو گئے۔صبح جب بادشاہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے کہا: میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ ہنوز دتی دور است۔غرض ہمارا خدا بڑی بزرگ شان رکھنے والا ہے اور جو بھی اس کے ساتھ سچا تعلق پیدا کرتا ہے وہ اپنی اپنی روحانیت اور درجہ کے مطابق بزرگی حاصل کر لیتا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کی شان اور عظمت پر حملہ کرنے والا سزا پاتا ہےاسی طرح وہ لوگ جوخدا تعالیٰ کے مقربین پر حملہ کرتے ہیں وہ بھی اپنے کئے کی سزا پائے بغیر نہیں رہتے۔( تفسیر کبیر جلدے صفحہ ۳۶۔۳۷) www۔alislam۔org