سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 14

20 19 ہے کہ اس وقت مل نہیں سکتا۔کسی نے خادم کے ذریعہ کہلوا دیا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔کسی نے معذرت کا اظہار کر دیا اور کہدیا کہ روپیہ تو تھا مگر آج ہی فلاں کو دیدیا گیا ہے۔اسی طرح وہ خالی ہاتھ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچا اور اسے کہا کہ آپ کی بات درست ثابت کبھی کروڑ پتیوں پر بھی ایسی مصیبت آجاتی ہے کہ وہ پیسہ پیسہ کے محتاج ہو جاتے ہیں۔(جیسے مشرقی پنجاب میں کئی مسلمان کروڑ پتی تھے مگر آج وہ بالکل کنگال ہیں ) میں ساری عمر پیسہ پیسہ جمع کر کے چار پانچ سورو پید اکٹھا کیا تھا اور اسے زمین میں دبا رکھا تھا۔ہوئی۔میری تو کسی شخص نے مدد نہیں کی۔باپ نے کہا: اب آؤ میں تمہیں اپنا دوست بتاتا اس خیال کے آنے پر میں نے زمین کھودنی شروع کر دی اور وہ تھیلی نکال لی اس لئے مجھے ہوں۔یہ کہہ کر وہ اسے اپنے ساتھ شہر سے باہر جنگل کی طرف لے گیا اور ایک مکان کے پاس پہنچ کر اس نے آواز دی۔جس طرح اس زمانہ میں ریل پر پہرہ ہوتا ہے اس طرح پرانے زمانے میں سڑکوں پر پہرہ ہوا کرتا تھا اور وہ شخص بھی انہی پہرہ داروں میں ملازم تھا۔اس نے زنجیر کھٹکھٹائی تو اندر سے آواز آئی کہ کون ہے۔اس نے اپنا نام لیا کہ فلاں شخص ہوں۔اس نے کہا: بہت اچھا مگر اتنا کہنے کے بعد خاموشی طاری ہوگئی اور آدھ گھنٹے تک اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔بیٹا کہنے لگا: آپ کا دوست بھی میرے دوستوں جیسا ہی ثابت ہوا ہے۔باپ نے کہا: گھبراؤ نہیں ، ابھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اس نے نکلنے میں کیوں دیر لگائی ہے۔پانچ دس منٹ اور گزرنے کے بعد وہ شخص باہر نکلا۔اس نے ایک ہاتھ میں اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔اس کی کمر میں میان بندھی ہوئی تھی اور اس کے دوسرے ہاتھ میں تلوار تھی۔اس نے باہر نکل کر کہا: میرے دوست معاف کرنا مجھے دیر اس لئے ہو گئی کہ آج آپ آدھی رات کے وقت تشریف لائے ہیں۔جب آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میرے دل میں خیال آیا کہ آدھی رات کے وقت آپ کا میرے پاس آنا ضرور اپنے اندر کوئی غرض رکھتا ہے۔چنانچہ میں نے سوچا کہ ممکن ہے آپ پر اس وقت کوئی مصیبت آئی ہوئی ہو اور آپ مدد کے لئے میرے پاس آئے ہوں اس خیال کے آنے پر میں نے تلوار اٹھالی۔کیونکہ یہی اک چیز ہے جس سے میں آپ کی مدد کر سکتا تھا۔پھر مجھے خیال آیا کہ گو آپ کروڑ پتی ہیں مگر باہر آنے میں دیر ہوگئی ہے اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے آپ کے گھر والے بیمار ہوں اور ان کی تیمارداری کے لئے کسی کی مدد کی ضرورت ہو۔چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو جگایا اور اسے بھی اپنے ساتھ لے لیا۔اب یہ تینوں چیز میں حاضر ہیں۔بتائیے آپ کو کیا کام ہے۔باپ نے اپنے بیٹے سے کہا: دیکھا۔اس قسم کے دوست ہوا کرتے ہیں۔یہ مثال اپنے اندر یہ سبق رکھتی ہے کہ اگر انسانوں کے دوست اس قسم کے ہو سکتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے دوست کو کیسا ہونا چاہئے۔( خطبات محمود جلد ۲ صفحه ۲۹۹ تا صفحه ۳۰۱ بحواله الفضل یکم نومبر ۱۹۴۷ء) www۔alislam۔org