سوچنے کی باتیں — Page 35
62 61 نے پھر اسے روکا اور کہا حضور بادشاہ سلامت کا حکم ہے کہ آج کسی شخص کو اندر نہ آنے دیا جائے۔اسے سخت غصہ آیا اس نے کوڑا اٹھایا اور دربان کو مارنا شروع کیا کچھ دیر مارنے کے بعد اس نے سمجھا کہ اب اسے ہوش آ گیا ہو گا وہ پھر اندر داخل ہونے لگا مگر ٹالسٹائے پھر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔حضور بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر داخل نہ ہو۔شہزادے نے پھر اسے مارنا شروع کر دیا۔وہ سر جھکا کر مارکھا تا رہا مگر جب تیسری دفعہ شہزادہ اندر داخل ہونے لگا تو پھر اس نے ہاتھ پھیلا دیئے اور کہا۔اندر جانے کی اجازت نہیں۔بادشاہ نے منع کیا ہوا ہے۔شہزادے نے پھر اسے مارنا شروع کر دیا۔اتفاق کی بات ہے کہ جب پہلی دفعہ شہزادے نے دربان کو مارا تو شور کی آواز بادشاہ کے کان تک پہنچ گئی اور اس نے بالا خانہ کی کھڑی سے یہ نظارہ دیکھنا شروع کر دیا۔جب تیسری دفعہ شہزادہ اسے مار رہا تھا تو بادشاہ نے اسے آواز دی کہ ٹالسٹائے ادھر آؤ۔ٹالسٹائے اندر گیا اور اس کے ساتھ شہزادہ بھی بڑے غصے کی حالت میں بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس نے کہا۔آج دربان نے میری سخت ہتک کی ہے۔بادشاہ نے پوچھا کیا ہوا؟ شہزادے نے کہا میں اندر آنا چاہتا تھا مگر ٹالسٹائے مجھے اندر نہیں آنے دیتا تھا۔بادشاہ نے ایسی شکل بنا کر کہ گویا اس واقعہ کا اسے کوئی علم نہیں کہا۔ٹالسٹائے تم نے شہزادے کو اندر داخل ہونے سے کیوں روکا۔اس نے کہا حضور آپ کا حکم تھا کہ آج کسی شخص کو اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔بادشاہ نے شہزادے کی طرف دیکھا اور کہا کہ کیا اس نے تم کو بتایا تھا کہ میں نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو اندر نہ آنے دیا جائے۔اس نے کہا: بتایا تو تھا مگر شہزادے کو کوئی دربان روک نہیں سکتا۔بادشاہ نے کہا میں جانتا ہوں کہ شہزادے کو کوئی روک نہیں سکتا مگر بادشاہ روک سکتا ہے۔تم نے شہزادہ ہو کر قانون کی بے حرمتی کی ہے اور اس نے دربان ہو کر قانون کی عظمت کو سمجھا ہے اور پھر باوجود اس کے کہ اس نے تمہیں بتادیا تھا کہ یہ میر احکم ہے پھر بھی تم نے اسے مارا۔اب اس کی سزا یہ ہے کہ تم اس دربان کے ہاتھوں اسی طرح مار کھاؤ جس طرح تم نے اسے مارا ہے۔اس کے بعد اس نے ٹالسٹائے کو کہا: ٹالسٹائے اٹھو اور اس شہزادے کو مارو۔روسی قانون کے مطابق کسی فوجی کو کوئی غیر فوجی نہیں مارسکتا۔شہزادے نے کہا میں فوجی ہوں اور یہ ٹالسٹائے سویلین ہے۔یہ مجھے مار نہیں سکتا۔بادشاہ نے کہا: کیپٹن ٹالسٹائے میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم شہزادے کو مارو۔اس نے مارنے کیلئے کوڑا اٹھایا تو شہزادے نے کہا: میں زار روس کا جرنیل ہوں اور جرنیل کو کوئی غیر جرنیل نہیں مار سکتا۔بادشاہ نے کہا: جنرل ٹالسٹائے میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم شہزادے کو مارو۔اس پر شہزادے نے پھر روسی کانسٹی ٹیوشن کا حوالہ دے کر کہا کہ کسی نواب کو کوئی غیر نواب نہیں مار سکتا۔بادشاہ نے کہا: اچھا کاؤنٹ ٹالسٹائے اٹھو اور شہزادے کو مارو۔گویا در بان سے اسی وقت اس نے اسے کاؤنٹ بنادیا اور شہزادے کو اس کے ہاتھوں سے سزا دلوائی۔(سیر روحانی جلد دوم صفحه ۴۴ تا ۴۶) www۔alislam۔org