سوچنے کی باتیں — Page 34
60 59 تھا اور اس میں یہ لکھا تھا کہ ہمارا باپ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا اور اس نے تمام ملک کاؤنٹ ٹالسٹائے اٹھو اور شہزادے کو مارو۔۔میں ایک تباہی مچارکھی تھی۔ہم نے فلاں رات اسے مار دیا ہے اور اب ہم خود اس کی جگہ تخت پر بیٹھ گئے ہیں۔اب تمہارا فرض ہے کہ تم اپنی مملکت کے لوگوں سے ہماری اطاعت کا اقرار لو، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ انہی سفاکیوں میں سے جو ہمارے باپ نے کیں ایک یہ بھی سفا کی تھی کہ اس نے عرب کے ایک شخص کے متعلق لکھا تھا کہ اسے گرفتار کر کے ہمارے پاس بھجوادیا جائے ، ہم اس حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔یہی حقیقت عَلَّمَهُ شَدِيدُ القُویٰ میں بیان کی گئی ہے کہ ایک طاقتور ہستی اس کی نگران ہوگی اور اس کو چھیڑ نا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔رسول کریم ﷺ کی زندگی میں بہت سے مواقع ایسے آئے ہیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کو چھیڑ نا خدا تعالیٰ کو چھیڑ نا تھا۔( سیر روحانی جلد دوم صفحه ۴۷ تا ۴۹) ٹالسٹائے روس کا ایک مشہور مصنف گذرا ہے جو لینن اور مارکس وغیرہ کے بعد ان چوٹی کے لوگوں میں سے تھا جنہوں نے بالشویزم کی اشاعت میں سب سے بڑا حصہ لیا ہے۔اب بھی دنیا کی اکثر زبانوں میں اس کی تصانیف کے تراجم پائے جاتے ہیں۔اس شخص کا ایک دادا سات آٹھ پشت پہلے پیٹر بادشاہ کے زمانہ میں اس کا در بان ہوا کرتا تھا۔ایک دن بادشاہ کو کوئی ضروری کام تھا اور وہ اپنی قوم کی بہتری کے لئے کوئی سکیم سوچ رہا تھا۔اس نے ٹالسٹائے کو حکم دیا کہ آج کسی شخص کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ اگر کوئی شخص اندر آئے گا تو میرا دماغ مشوش ہو جائے گا اور میں سکیم کو پوری طرح تیار نہیں کر سکوں گا۔وہ ٹالسٹائے کو تاکید کر کے اپنے کمرہ میں آ گیا۔مگر بدقسمتی سے اسی وقت ایک شہزادہ آیا اور اس نے اندر داخل ہونا چاہا۔ٹالسٹائے نے اپنے ہاتھ اس کے دروازہ کے آگے پھیلا دیئے اور کہا آپ اندر نہیں جاسکتے ، بادشاہ کا حکم ہے کہ کسی شخص کو اندر نہ آنے دیا جائے۔اس وقت تک روس کا قانون ابھی منظم نہیں ہوا تھا اور لارڈوں، نوابوں اور شاہی خاندان والوں کے بڑے حقوق سمجھے جاتے تھے۔اس دستور کے مطابق شہزادہ کو قلعہ کے اندر داخل ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا بلکہ ان سے اتر کر بعض اور لوگوں کے لئے بھی یہی دستور تھا۔جب دربان نے شہزادے کو روکا تو وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا: میں خوب جانتا ہوں آپ فلاں گرینڈ ڈیوک ہیں۔اس نے کہا: کیا تم کو معلوم نہیں کہ مجھ کو ہر وقت اندر جانے کی اجازت ہے؟ دربان نے جواب دیا میں خوب جانتا ہوں۔یہ سن کر وہ پھر آگے بڑھا اور اندر داخل ہونے لگا۔دربان www۔alislam۔org