سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 32

56 55 نے کہا کہ آپ ایک سے دس تک کوئی ہندسہ اپنے دل میں سوچیں۔میں نے سات کا ہندسہ سوچا اور اس نے ایک کاغذ اٹھا کر مجھے دکھایا جس پر لکھا تھا کہ آپ سات کا ہندسہ سوچیں گے۔پھر کہنے لگا کہ آپ اپنی پیٹھ پر سے کپڑا اٹھا ئیں۔آپ کے دائیں طرف ایک مسہ ہے۔میں نے کرتا اٹھایا تو وہاں مسہ بھی موجود تھا۔میں نے کہا تمہاری پہلی دو چالاکیاں تو مجھے معلوم ہو گئیں۔تم یہ بتاؤ کہ تم نے یہ کس طرح پتہ لگا لیا کہ میرے جسم کے دائیں طرف ایک مسہ ہے۔اس نے کہا ہماری راول قوم اس فن میں بہت مشہور ہے اور اس نے بڑی کثرت سے انسانی جسموں کو دیکھا ہوا ہے۔ایک لمبے مشاہدہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ اتنی فی صدی لوگوں کی کمر کے دائیں طرف کوئی نہ کوئی مسہ ضرور ہوتا ہے۔اگر تین چار آدمیوں کو یہ بات بتائی جائے اور تین آدمیوں کے مسے نکل آئیں اور چوتھے کے نہ نکلیں تو عام طور پر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی حسابی غلطی ہوگئی ہوگی وہ ہمارے علم پر شبہ نہیں کرتے۔ان دنوں قادیان میں ایک اہل حدیث لیڈر آئے ہوئے تھے۔وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو اتفاقا ان سے بھی اس بات کا ذکر آ گیا۔کہنے لگے ان لوگوں کو کوئی علم نہیں آتا محض ارڈ پوپو ہوتے ہیں۔لیکن میں بھی چاہتا ہوں کہ اس شخص کو دیکھوں۔وہ اب کی دفعہ آئے تو اسے میرے پاس ضرور بھجوا دیں۔وہ قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں کا رہنے والا تھا۔اتفاق سے دوسرے تیسرے دن پھر آ گیا اور میں نے اسے انہی اہل حدیث مولوی صاحب کے پاس بھجوا دیا۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد وہ میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور لینے لگے یہ تو معجزہ ہے معجزہ۔اس نے جتنی باتیں بتائیں وہ ساری کی ساری صحیح تھیں۔معلوم ہوتا ہے اسے غیب کا علم آتا ہے۔آپ اسے کہیں کہ کسی طرح یہ علم مجھے سکھا دے۔میں نے ہنس کر کہا: تم تو اہل حدیث ہو اور جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو علم غیب نہیں۔پھر یہ کیسی باتیں کرتے ہو۔پھر میں نے انہیں کہا کہ ایک دفعہ تو اس نے باتیں دریافت کر لیں۔اب اسے کہو کہ وہ مجھ سے پھر وہ دو باتیں دریافت کر کے دیکھے۔میں نے خود بھی اسے کہا۔مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوا۔جس چیز کا مجھ پر اثر تھا وہ صرف یہ تھی کہ اسے مسے کا کس طرح پتہ لگ گیا۔اس کے متعلق اس نے بتایا کہ ہماری قوم کے لوگ ساری جگہ پھرتے رہتے ہیں اور وہ انڈونیشیا اور جاپان تک بھی جاتے ہیں۔انہوں نے انسانی جسموں کو کثرت کے ساتھ دیکھنے کے بعد بعض نتائج قائم کئے ہوئے ہیں جو عمو ماستر ، اسی فیصدی صحیح نکلتے ہیں جیسے انشورنس والوں نے اندازے لگائے ہوئے ہیں کہ اتنے آدمی بیمہ کرائیں تو ان میں سے اتنے مرتے ہیں اور اتنے زندہ رہتے ہیں چونکہ ستر فی صدی لوگوں کا مسہ نکل آتا ہے اس لئے تمہیں فی صدی لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ جانتے تو سب کچھ ہیں ،معلوم ہوتا ہے کہ حساب میں ان سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔(سیر روحانی جلد دوم صفحه 19 تا 21) www۔alislam۔org