سرّالخلافة — Page 185
سر الخلافة ۱۸۵ اردو ترجمہ ہے۔أَرَى نُوْرَ وَجْهِ اللهِ فِي عَادَاتِهِ وَجَلْوَاتِهِ كَأَنَّهُ قِطْعُ نَيْرِ میں تو اس کی عادات اور اس کے جلووں میں اللہ کے چہرے کا نور پاتا ہوں۔گویا کہ وہ آفتاب کا ٹکڑا۔وَإِنَّ لَهُ فِي حَضْرَةِ الْقُدْسِ دَرَجَةً فَوَيْلٌ لِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ كَخَنُجَرٍ اور اسے جناب الہی میں ایک مرتبہ حاصل ہے۔پس ہلاکت ہے ان زبانوں پر جو خنجر کی طرح تیز ہیں۔وَخِدْمَاتُهُ مِثْلَ الْبُدُورِ مُنِيرَةٌ وَثَمَرَاتُهُ مِثْلَ الْجَنَا الْمُسْتَكْثَرِ اور اس کی خدمات کامل چاندوں کی طرح روشن ہیں اور اس کے پھل کثرت سے چنے ہوئے میووں کی طرح ہیں۔وَجَاءَ لِتَنضِيرِ الرِّيَاضِ مُبَشِّرًا فَلِلَّهِ دَرُ مُنَضْرِ ومُبَشِّرِ اور وہ باغوں کی شادابی کے لئے بشیر ہو کر آیا۔پس خدا بھلا کرے اس شاداب کرنے والے اور بشارت دینے والے کا۔الحاشية: انا بينا ان ابابكر كان حمید حاشیہ:۔ہم بیان کر چکے ہیں کہ ابوبکر ایک نادر روزگار، ۶۳ رجلا عبقريا وانسانا الهياجلى باخدا انسان تھے۔جنہوں نے اندھیروں کے بعد اسلام کے چہرے کو مطلع الاســلام بــعــد الـظـلام و کسان تابانی بخشی اور آپ کی پوری کوشش یہی رہی کہ جس نے اسلام کو ترک قصاراه انـه مـن تـرك الاسلام فباراہ کیا۔آپ نے اس سے مقابلہ کیا۔اور جس نے حق سے انکار کیا۔آپ و من انكـر الـحـق فـمـاراه ومن دخل نے اُس سے جنگ کی۔اور جو اسلام کے گھر میں داخل ہو گیا تو اُس دار الاسلام فداراه۔کـــــابـد فـــي سے نرمی اور شفقت کا سلوک کیا۔آپ نے اشاعت اسلام کے لئے اشـــــاعـة الاســــلام شـــدائـد واعطی سختیاں برداشت کیں۔آپ نے مخلوق کو نایاب موتی عطا کئے۔اور اپنے الخلق دررا فرايد۔ساس الاعراب عزم مبارک سے بادیہ نشینوں کو معاشرت سکھائی۔اور ان شتر بے مہاروں العزم المبارك وهذب تلك کو کھانے پینے نشست و برخاست کے آداب ، اور نیکی کے راستوں الجمال في المسارح والمبارک کی تلاش اور جنگوں میں بڑھکیں مارنے کے ادب سکھائے۔اسی واستقراء المسالك ورغاء المعارك طرح راستوں کی اُستواری کی اور آپ نے ہر طرف مایوسی دیکھ کر مـا اسـتـفتـى بـأسـا ورأى من كل طرف ياسا بھی کسی سے جنگ کے بارے میں نہیں پوچھا بلکہ آپ ہر مد مقابل انبرى لمبارات كل خصيم وما استهوته سے نبرد آزما ہونے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ہر بزدل اور الافكار ككل جبان وسقيم وثبت بیمار شخص کی طرح آپ کو خیالات نے بہکایا نہیں۔ہر فساد اور عند كل فساد وبلوى انه ارسخ من مصیبت کے موقع پر ثابت ہوگیا کہ آپ کو ہ رضوی سے زیادہ رضوی واهلك كل من تنبى من رائخ اور مضبوط ہیں۔آپ نے ہر اُس شخص کو جس نے نبوت کا كذب الدعوى۔ونبذ العُلق لله جھوٹا دعویٰ کیا ہلاک کر دیا۔اور اللہ تعالیٰ کی خاطر تمام تعلقات کو الا عـلـــى وكـــان كـل اهتشـاشــه فی پرے پھینک دیا۔آپ کی تمام خوشی اعلاء کلمہ اسلام اور خیر الانام اعلاء كلمة الاسلام واتباع خير الانام کی اتباع میں تھی۔پس اپنے دین کی حفاظت کرنے والے فدونك حافظ دينك واترك طنينك ( حضرت ابو بکر ) کا دامن تھام لے اور اپنی فضول گوئی چھوڑ دے