سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 259

سرّالخلافة — Page 184

سر الخلافة ۱۸۴ اردو ترجمہ آبَادَ هَوَى الدُّنْيَا لِإِحْيَاءِ دِينِهِ وَجَاءَ رَسُولَ اللهِ مِنْ كُلِّ مَعْبَرٍ اس نے دنیا کی خواہشات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے احیاء کی خاطر مٹا دیا اور رسول اللہ کے پاس ہر گذرگاہ سے آیا۔عَلَيْكَ بِصُحُفِ اللَّهِ يَا طَالِبَ الْهُدَى لِتَنْظُرَ أَوْصَافَ الْعَتِيقِ الْمُطَهَّرِ ، طالب ہدایت ! اللہ کے صحیفوں کو لازم پکڑ، تا تو اس پاک شریف النفس کے اوصاف دیکھے۔وَمَا إِنْ أَرَى وَاللهِ فِى الصَّحُبِ كُلِّهِمُ كَمِثْلِ أَبِي بَكْرِ بِقَلْبٍ مُعَطَّرٍ اور خدا کی قسم! میں تمام کے تمام صحابہ میں کوئی شخص ابوبکر کی طرح معطر دل والا نہیں پاتا۔تَخَيَّرَهُ الْأَصْحَابُ طَوْعًا لِفَضْلِهِ وَلِلْبَحْرِ سُلْطَانٌ عَلَى كُلِّ جَعْفَرٍ صحابہ نے بخوشی اس کی بزرگی کی وجہ سے اس کا انتخاب کیا۔اور سمندر کو ہر دریا پر غلبہ حاصل ہے۔وَيُثْنِي عَلَى الصِّدِّيقِ رَبِّ مُّهَيْمِنٌ فَمَا أَنْتَ يَا مِسْكِينُ إِنْ كُنْتَ تَزْدَرِى اور رب مہیمن، صدیق کی مدح کر رہا ہے۔پس اے مسکین! تو کیا چیز ہے؟ اگر تو عیب لگاتا ہے۔لَهُ بَاقِيَاتٌ صَالِحَاتٌ كَشَارِقِ لَهُ عَيْنُ آيَاتٍ لِّهَذَا التَّطَهَّرِ سورج کی طرح اس کے باقیات صالحات موجود ہیں اس پاکیزگی کی وجہ سے اس کے لئے نشانات کا ایک چشمہ موجود ہے۔تَصَدَّى لِنَصْرِ الدِّينِ فِي وَقْتِ عُسْرِهِ تَبَدَّى بِغَارِ بِالرَّسُوْلِ الْمُوَّزَرِ دین کی تنگی کے وقت اس نے اس کی مدد کی ذمہ داری لی اور تائید یافتہ سول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں جانے میں پہل کی۔(۵۹) مَكِينٌ أَمِينٌ زَاهِدٌ عِندَ رَبِّهِ مُخَلِّصُ دِينِ الحَقِّ مِنْ كُلِّ مُهْجِرٍ وہ اپنے رب کے حضور میں صاحب مرتبہ امانتدار اور تارک دنیا ہے۔دینِ حق کو ہر ایک بیہودہ گو سے خلاصی دینے والا ہے۔وَمِنْ فِتَنِ يُخْشَى عَلَى الدِّينِ شَرُّهَا وَمِنْ مِّحَنٍ كَانَتْ كَصَخْرٍ مُكَسِرِ اور خلاصی دینے والا ہے دین کو ایسے فتنوں سے جن کے شر سے دین کو خوف تھا اور ایسے دکھوں سے جو توڑنے والے پتھر کی طرح تھے۔وَلَوْ كَان هذَا الرَّجُلُ رَجُلًا مُنَافِقًا فَمَنْ لِلنَّبِيِّ الْمُصْطَفَى مِنْ مُّعَزِّرِ اگر یہ آدمی کوئی منافق آدمی تھا تو پھر نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار کون تھا؟ ا تَحْسَبُ صِدِّيقَ الْمُهَيْمِنِ كَافِرًا لِقَوْلِ غَرِيْقِ فِي الضَّلَالَةِ أَكْفَرِ کیا تو خدائے مھیمن کے صدیق کو کافر خیال کرتا ہے ایسے شخص کے کہنے پر جو گمراہی میں غرق اور سب سے بڑا کافر ہے۔وَكَانَ كَقَلْبِ الْأَنْبِيَاءِ جَنَانُهُ وَهِمَّتُهُ صَوَّالَةٌ كَالْغَضَنُفَرِ اس کا دل تو انبیاء کے دل کی طرح تھا اور اس کی ہمت شیر کی طرح خوب حملہ کرنے والی تھی۔தற்