سرّالخلافة — Page 88
سر الخلافة ۸۸ اردو تر جمه وأُدخل في النار وأوذي من وہ آگ میں ڈالے گئے اور شریروں کی طرف الأشرار، فما اختار التقيّة خوفا سے ایذاء دیئے گئے لیکن انہوں نے ان من الأشرار۔فهذه هي سيرة شریروں کے خوف سے تقیہ اختیار نہ کیا۔یہ الأبرار، لا يخافون السيوف ہے نیکو کاروں کی سیرت کہ وہ شمشیر و سناں ولا السنان، ويحسبون التقية سے نہیں ڈرتے اور وہ تقیہ کو گناہ کبیرہ اور من كبائر الإثم والفواحش بے حیائی اور تعدی تصور کرتے ہیں۔اگر ان والعدوان، وإن صدرت شمّةٌ میں سے بطور لغزش ایک ذرہ بھی صادر منها كمثل ذلّة فيرجعون إلى ہو جائے تو وہ استغفار کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔الله مستغفرين۔ونعجب من علي رضی الله ہمیں تعجب ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ جانتے عنه كيف بايع الصديق ہوئے بھی کہ صدیق اور فاروق کا فر ہو گئے ہیں اور والفاروق، مع علمه بأنهما قد انہوں نے حقوق تلف کئے ہیں، ان کی کیسے بیعت كفرا وأضاعا الحقوق، ولبث کرلی۔وہ (علی) لمبی عمر دونوں کے ساتھ رہے اور فيهما عمرًا واتبعهما إخلاصا پورے اخلاص اور عقیدت سے ان دونوں کی اتباع وعقيدة، وما لغب وما وهَن وما أرى کی اور اس میں ) نہ وہ تھکے اور نہ کمزوری دکھائی اور كراهة، وما اضمحلت الداعية، نہ ہی کسی قسم کی کراہت کا اظہار کیا۔نہ کوئی اور وجہ وما منعته التقاة الإيمانية، مع أنه آڑے آئی اور نہ ہی آپ کے ایمانی تقوی نے آپ كان مطلعا على فسادهم و کفر هم کو اس سے روکا۔بایں ہمہ کہ آپ ان حضرات وارتدادهم، وما كان بينه وبين كے فساد، کفر اور ارتداد سے آگاہ تھے اور آپ کے اور کے أقوام العرب بابا مسدودًا و حجابا اقوام عرب کے درمیان نہ کوئی بند دروازہ تھا اور نہ ہی ممدودًا وما كان من المسجونين کوئی بڑی روک اور نہ ہی آپ قیدیوں میں سے تھے۔