سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 259

سرّالخلافة — Page 75

سر الخلافة ۷۵ اردو تر جمه وكما صلت على الصديق جس طرح تو نے انتہائی تقوی شعار صدیق پر الأتقى كذلك صلت على حملہ کیا۔اسی طرح تو علی مرتضیٰ پر بھی حملہ آور ہوا على المرتضى، فإنك جعلت ہے۔سو تو نے نعوذ باللہ (حضرت) علی کو بھی عليا نعوذ بالله كالمنافقین، منافقوں کی طرح قرار دیا اور دو کافروں کے وقاعدا علی باب الکافرین دروازے پر بیٹھنے والا بنا دیا تا کہ اس طرح ان کا ليفيض شربه الذي غاض خشک چشمہ فیض پھر سے جاری ہو جائے اور ان وينجبر من حاله ما انهاض ولا کی شکستہ حالی رُو بہ اصلاح ہو جائے۔بلا شبہ یہ شك أن هذه السير بعيدة من مخلصوں کے سیرت واطوار نہیں اور یہ روش المخلصين، ولا توجد إلا في صرف اُسی میں پائی جاتی ہیں جو منافقوں کی الذي رضى بعادات المنافقین عادات پسند کرتا ہو۔وإذا سئل عن الشيعة المتعصبين اگر متعصب شیعوں سے یہ پوچھا جائے کہ مخالف من كان أوّل من أسلم من منکروں کی جماعت سے نکل کر بالغ مردوں میں سے الرجال البالغين وخرج من اسلام لانے والا پہلا شخص کون تھا؟ تو انہیں یہ کہنے المنكرين المخالفين، فلا بد کے سوا چارہ نہیں کہ وہ حضرت ابوبکر تھے۔پھر جب لهم أن يقولوا إنه أبو بكر۔ثم یہ پوچھا جائے کہ وہ کون تھا جس نے سب سے إذا سئل مَن كان أوّل من هاجر پہلے حضرت خاتم النبیین کے ساتھ ہجرت کی اور تمام مع خاتم النبيين ونبذ العلق تعلقات کو پس پشت ڈالا اور وہاں چلے گئے جہاں وانطلق حيث انطلق، فلا بد حضور گئے تھے تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ لهم أن يقولوا إنه أبو بكر نہ ہوگا کہ وہ کہیں کہ وہ حضرت ابو بکڑ تھے! پھر جب ثم إذا سئل من كان أوّل یہ پوچھا جائے کہ بفرض محال غاصب ہی سہی تا ہم المستخلفين ولو کالغاصبین، خلیفہ بنائے جانے والوں میں سے پہلا کون تھا؟ تاہم