سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 259

سرّالخلافة — Page 41

سر الخلافة اردو تر جمه اور فاعلم أيها العزيز أن حزبا من اے عزیز ! جان لو کہ شیعہ علماء میں سے کچھ علماء الشيعة ربما يقولون إن لوگ اکثر یہ کہتے ہیں کہ اصحاب ثلاثہ (حضرت خلافة الأصحاب الثلاثة ما ثبت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان ) کی خلافت من الكتاب والسنّة، وأما خلافة كتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے۔رہی سب سيدنا المرتضى وأسد الله الأتقى سے بڑھ کر متقی شیر خدا، حضرت علی المرتضیٰ کی فثبت من وجوه شتی و برهان خلافت تو وہ کئی اعتبار سے اور روشن دلیل سے أجلى، فلزم من ذلك أن يكون ثابت ہے۔لہذا اس سے یہ لازم ٹھہرا کہ تینوں الخلفاء الثلاثة غاصبين ظالمين خلفاء غاصب، ظالم اور حق تلفی کرنے والے آلتين، فإن خلافتهم ما ثبتت من تھے۔بناء برایں اُن کی خلافت خاتم النبیین ا خاتم النبيين وخير المرسلين | خیرالمرسلین سے ثابت نہیں ہوتی۔أما الجواب فلا يخفى على اما الجواب، غور و فکر کرنے والے زیرک اور اللہ المتدبرين الفارهين و عباد الله کے تقویٰ شعار بندوں پر یہ امر مخفی نہیں کہ سیدنا المتقين، أن ادعاء ثبوت خلافة ( حضرت علی ) مرتضی کی خلافت کے ثبوت کا یہ سيدنا المرتضى صلف بحث دعویٰ کرنا محض لاف زنی ہے جس میں صداقت کی ما لحقه من الصدق سنا و زورةُ کوئی روشنی نہیں۔اور ایسا بعید از قیاس خیال طيف ليس معه شهادة من ہے جس کی تائید میں ہمارے بزرگ و برتر رب كتاب ربنا الأعلى، وليس فی کی کتاب سے کوئی شہادت موجود نہیں اور اہل أيدى الشيعة شمة على ثبوت تشیع کے ہاتھ میں اس دعویٰ کا ذرہ بھر ثبوت هذا الدعوى، فلا شك أن خلافته نہیں پس اس میں کوئی شک نہیں کہ ان (علی) عارى الجلدة من حلل الثبوت کی خلافت جامہ ثبوت سے عاری محض اور ایک ایسے وبادي الجردة كالسبروت، محتاج فقیر کی طرح ہے جس کا ننگ ظاہر و با ہر ہو