سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 259

سرّالخلافة — Page 32

سر الخلافة ۳۲ اردو تر جمه ووالله إنهم رجال قاموا في خدا کی قسم وہ ایسے لوگ ہیں جو خیر الکائنات صلی اللہ مواطن الممات لنصرة خیر علیہ وسلم کی مدد کی خاطر موت کے میدانوں میں الكائنات، وتركوا الله آباء هم ڈٹ گئے اور اللہ کی خاطر انہوں نے اپنے باپوں وأبناء هم ومزقوهم بالمرهفات اور بیٹوں کو چھوڑ دیا اور انہیں تیز دھار تلواروں وحاربوا الأحباء فقطعوا الرؤوس، سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اپنے پیاروں سے وأعطوا الله النفائس والنفوس جنگ کی اور ان کے سر قلم کئے۔اور اللہ کی راہ میں وكانوا مع ذلك باكين لقلة اپنے نفیس اموال اور جانیں شمار کیں لیکن اس کے الأعمال و متـنـدميـن ومـا باوجود وہ اپنے اعمال کی قلت پر روتے اور سخت تمضمضت مقلتهم بنوم الراحة نادم تھے۔اور ان کی آنکھ نے بھر پور نیند کا مزا إلا قليل من حقوق النفس نہیں لیا مگر بہت قلیل جو آرام کے لحاظ سے نفس للاستراحة، وما كانوا متنعمين۔کا لازمی حق ہے۔اور وہ نعمتوں کے دلدادہ نہیں فكيف تظنون أنهم كانوا تھے۔پس تم کیسے خیال کرتے ہو کہ وہ ظلم کرتے يظلمون ويغصبون، ولا يعدلون تھے، مال غصب کرتے تھے، عدل نہیں کرتے تھے 1 ويجورون؟ وقد ثبت أنهم خرجوا اور جور و ستم کرتے تھے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ من الأهواء ، وسقطوا في حضرة نفسانی خواہشات سے باہر آچکے تھے اور وہ ہمیشہ الكبرياء ، وكانوا قوما فانين آستانہ الہی پر گرے رہتے تھے اور وہ فنا فی اللہ فكيف تسبّون أيها الأعداء ؟ لوگ تھے۔اے دشمنو! کیسے تم انہیں گالیاں دیتے وما هذا الارتياء الذي يأباه ہو۔اور یہ کیسی سمجھ ہے جس کا حیا انکار کرتی ہے۔الحياء ؟ فاتقوا الله وارجعوا پس اللہ سے ڈرو اور نرمی اور بُردباری کی طرف إلى رفق و حلم، ستسألون عما رجوع کرو۔بغیر علم اور واضح دلیل کے تم جو گمان تظنون بغير علم و برهان مبین کرتے ہو ان کی بابت تم سے ضرور پوچھا جائے گا۔