سرّالخلافة — Page 23
سر الخلافة ۲۳ اردو تر جمه فَعُلّمتُ رشدًا من الكريم الحكيم، اس پر مجھے خدائے کریم وحکیم کی طرف سے رشد وهديتُ إلى الحق من الله العلیم و ہدایت کی تعلیم دی گئی اور خدائے علیم کی طرف وأخذتُ عن رب الكائنات وما سے میری راہنمائی حق کی طرف کی گئی اور یہ میں أخذتُ عن المحدثات، ولا يكمل نے رب کائنات سے پایا۔لوگوں کے اقوال رجل في مقام العلم وصحة سے اخذ نہیں کیا۔اور ہر شخص مقام علم اور صحت الاعتقادات إلا بعدما یلقی اعتقادات میں صرف آسمانوں کے خالق کے العلوم من لدن خالق السموات عطا کردہ علوم کے حصول کے بعد ہی کامل ہوتا ولا يعصم من الخطاء إلا الفضل ہے اور حضرتِ کبریاء کا فضل عظیم ہی غلطی سے الكبير من حضرة الكبرياء ، ولا محفوظ رکھتا ہے۔اور کوئی شخص خواہ لمبے عرصہ تک يبلغ أحد إلى حقيقة الأمور ولو ممتد اپنی ساری عمر فنا کر دے وہ خدائے رحمن کی أفنى العمر فيها إلى الدهور، إلا نسيم معرفت کے چلنے کے بغیر امور کی حقیقت بعد هبوب نسيم العرفان من الله تک نہیں پہنچ سکتا۔وہی سب سے بڑا معلم اور الرحمن، وهو المعلم الأعظم اور سب سے زیادہ علم رکھنے والا صاحب حکمت والحكيم الأعلم، يُدخل من ہے وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کر يشاء في رحمته، ويجعل من لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عارفوں میں سے بنا يشاء من العارفين۔وكذلك من دیتا ہے۔اسی طرح اللہ نے مجھ پر احسان الله على ورزقني من العلوم فرمایا اور مجھے اعلیٰ علوم عطا کئے اور ایسا نو ر دیا النخب، وجعل لى نورا يتبع جوشُهَب ثاقبہ کی طرح شیاطین کا تعاقب کرتا الشياطين كالشهب ، وأخرجنی ہے۔وہ مجھے سخت تاریک رات سے نکال کر من ليلة حالكة الجلباب إلى نهارایسے روشن دن کی طرف لے آیا جسے سفید ما غشاه قطعة من الرباب، بادل کے ٹکڑے نے ڈھانپا ہوا نہیں تھا