سرّالخلافة — Page 22
سر الخلافة ۲۲ اردو ترجمہ وما كان أن تتوارى عنى خبيئتهم ان کا اندرونہ مجھ سے چھپا نہیں رہ سکتا تھا اور نہ أو يخفى على رؤيتهم، فوجدتُ ان کا ظاہر مجھ پر خفی تھا۔مجھے یہ معلوم ہو گیا کہ وہ أنهم قوم يُعادون اكابر الصحابة، لوگ اکابر صحابہ سے دشمنی رکھتے ہیں اور وہ شکوک ورضوا بغشاوة الاسترابة ورأيت وشبہات کے پردوں پر راضی ہیں۔اور میں نے كل سعيهم في أن يفرط إلى دیکھا کہ ان کی پوری کوشش یہ ہوتی ہیں کہ وہ الشيخين ذم، أو يلحقهما وصم، شيخين (حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ) کی طرف فتارة كانوا يذكرون للناس قصة ہر برائی منسوب ہو اور ان دونوں پر دھبہ لگے۔القرطاس، وتارة يشيرون إلى کبھی تو وہ لوگوں سے قصۂ قرطاس کا ذکر کرتے قضية الفدك ، ويزيدون عليه ہیں اور کبھی وہ قضیہ فدک کی طرف اشارہ کرتے أشياء من الإفك، وكذلك كانوا ہیں اور اس پر بہت سی جھوٹی باتوں کا اضافہ مجترئین علی افترائهم وسادرین کرتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے افترا پر في غلوائهم، وكنتُ أسمع جارت کرتے رہے اور جوش میں بے پرواہ منهم ذم الصحابة وذم القرآن ہو کر بڑھتے رہے۔اور میں ان سے صحابہ، قرآن وذم أهل الله وجميع ذوی اور اہل اللہ اور تمام اہلِ عرفان اور امہات العرفان، وذمّ أُمهات المؤمنين المومنین کی مذمت کی باتیں سنتا تھا۔لیکن جب فلما عرفت عُود شجرتھم میں ان کی اصلیت اور ان کا راز حقیقت جان وخبيئة حقيقتهم أعرضت عنهم گیا تو میں نے ان سے اعراض کیا اور گوشہ نشینی وحُبِّبَ إلى الانزواء ، وفی قلبی مجھے محبوب ہو گئی اور میرے دل میں بہت سی أشياء۔وكنتُ أتضرع في حضرة باتیں تھیں اور میں (اللہ ) قاضی الحاجات کی قاضي الحاجات لیزیدنی بارگاہ میں مسلسل یہ آہ وزاری کرتا رہا کہ وہ علمًا في هذه الخصومات ان بحثوں میں میرے علم میں اضافہ فرما دے۔