سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 259

سرّالخلافة — Page 246

سر الخلافة ۲۴۶ اردو تر جمه ألا تنظرون وما بقي من خلل کیا تم دیکھتے نہیں کہ دین کے لبادے محض بوسیدہ الدين إلا أطمارًا مخرقة چیتھڑے ہو کر رہ گئے ہیں۔اور اُس کا محل صرف وما من قصره إلا أطلالا جلے ہوئے کھنڈرات کی شکل میں باقی رہ گیا ہے محرقة، وكُنا مُضغة اور ہم دشمنوں کے لئے کر نوالا بن گئے ہیں۔کیا للـمــاضـغيـن۔أتعجبون مِن تم اس پر حیران ہو کہ اللہ اپنے فضل واحسان سے أن الله آدرگکم بفضله تمہاری مدد کے لئے آگیا ہے اور اُس نے تمہیں ومنتـه ومـا أضــاحـكـم عن اپنے سایہ رحمت سے محروم نہیں کیا۔کیا اس ظل رحمته؟ أكانت لهذا زمانے کے لئے دجال کی ضرورت تھی۔اور وہ الزمان حاجة إلى دجال وما ربّ فَعَّال کی نصرت کے محتاج نہ تھے۔تمہیں كانوا محتاجين إلى نصرة کیا ہو گیا ہے؟ تم کن باتوں میں پڑے ہوئے رب فعال؟ ما لکم کیف ہو؟ تمہاری قوت متفکرہ اور منقولات کے فہم کا تخوضون؟ أين ذهبت قوة غور ملکہ کہاں چلا گیا؟ اور تمہاری فراست کہاں کوچ العقل وفهم النقل، وأين رحلت کر گئی؟ اور تمہاری بصیرت پر ایسی کون سی اُفتاد فراستكم، وأى آفة نزلت علی آن پڑی کہ تم صادقوں اور کاذبوں کے چہرے بصیرتـكـم، أنكم لا تعرفون پہچان نہیں رہے۔اس سے پہلے میں نے تم میں عمر وجوه الصادقين والكاذبين؟ کا ایک لمبا عرصہ ) گزارا ہے کیا پھر بھی تم عقل وقد لبثت فيكم عُمُرًا من قبله سے کام نہیں لیتے۔ایک شخص جو اپنی تمام أفلا تعقلون؟ وإن رجلا يبذل توانائیاں اور جو کچھ اُسے اللہ نے عطا فرمایا ہے قواه وكل ما رزقه الله و آتاه اور عنایت فرمایا ہے وہ اُس کے پسندیدہ مذہب کی لإعانة مذهب يرضاه، حتی اعانت کے لئے صرف کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ يُحسب أنه أهله وذراه اُس کا حقیقی اہل اور ماوی و ملجا شمار کیا جاتا ہے۔