سرّالخلافة — Page 219
سر الخلافة ۲۱۹ اردو تر جمه اپنے مطلب کے لئے ایک صریح پیشگوئی کو ظاہر سے پھیر کر روحانی نزول کا قائل ہے۔سواس وجہ سے کروڑہا آدمی کا فر اور منکر رہ کر داخل جہنم ہوئے۔اے مسلمانوں اس مقام کو ذرا غور سے پڑھو کہ آپ لوگوں کی بات یہود کی بات سے ایسی مل گئی کہ دونوں باتیں ایک ہی ہو گئیں اور یقیناً سمجھو کہ مومن کی خصلت میں داخل ہے کہ وہ دوسرے کے حال سے نصیحت پکڑتا ہے۔فاعتبروا یا اولی الابصار واسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون اگر کہو کہ ہم کیونکر یقین کریں کہ یہ واقعہ صحیحہ ہے تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مسئلہ دوقوموں کا متواترات سے ہے اور صرف یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہو گئیں ایسے متواترات کو کمزور نہیں کر سکتا۔ہاں اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں اس قول کی تکذیب کرتا۔پس جبکہ اس مسئلہ کی تکذیب حدیث اور قرآن سے ثابت نہیں ہوتی تو ہم متواترات قولی سے کسی طرح انکار نہیں کر سکتے بلکہ اگر یہ بھی فرض کر لیں کہ وہ تمام کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہی نہیں ہوئیں اور سراسر انسانی تالیف ہے۔پھر بھی ہم تاریخی سلسلہ کو کسی طرح مٹا نہیں سکتے اور جو امر تاریخی طرز پر دو قوموں کی متفق علیہ شہادت سے ثابت ہو گیا اب وہ شکی اور ظنی نہیں ٹھہر سکتا۔جیسا کہ ہم وجود رامچندر اور کرشن اور بکرماجیت اور بدھ سے انکار نہیں کر سکتے حالانکہ ہم ان کتابوں کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں سمجھتے۔پھر کیوں انکار نہیں کر سکتے ؟ تو اریخی تواتر کی وجہ سے۔بعض نیم ملا عجیب جہالت کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے جو ایک تحریف کا لفظ سن رکھا ہے محل بے محل پر اُسی کو پیش کر دیتے ہیں اور تاریخی تو اتر ات کو نظر انداز کر دیا ہے۔بلکہ ان کو مٹانا چاہتے ہیں۔یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ ہماری قوم میں ایسے لوگ نوٹ: آنحضرت ﷺ کا آنے والے مسیح کو اپنی امت میں سے قرار دینا روحانی نزول کا مؤید ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد روحانی نزول تھانہ اور کچھ۔منہ