سرّالخلافة — Page 220
سر الخلافة ۲۲۰ اردو تر جمه بھی مولوی کے نام سے مشہور ہیں کہ متواترات قومی کو جو تاریخ کے سلسلے میں آگئے ہیں قبول نہیں کرتے اور خواہ نخواہ غیر متعلقہ جزئیات کو تحریف میں داخل کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اس موقعہ پر اگر یہودی تحریف کرتے تو وہ تحریف عیسائیوں کے مقصد کے مخالف ٹھہرتی اور اگر عیسائی تحریف کرتے تو یہودیوں کے دعوئی کے برعکس ہوتی اور جو لفظ توریت کی (۸۱) کتابوں میں موجود ہیں وہ عیسائیوں کے مقصد کو نہایت مضر پڑے ہیں۔کیونکہ ان سے حضرت ایلیا کے نزول جسمانی کی پیشگوئی قبل از ظهور حضرت مسیح یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں تحریف کرنے میں عیسائیوں کا یہودیوں کے ساتھ اتفاق کرنا ایسا ہے جیسا کہ کوئی اپنے ہاتھ سے اپنا ناک کاٹے۔وجہ یہ کہ اگر نزول ایلیا کی پیشگوئی کو ظاہر پر ہی حمل کریں تو پھر حضرت عیسی کا سچا نبی ہونا محالات میں سے ہے کیونکہ اب تک ایلیا نبی بجسمه العنصری آسمان سے نازل نہیں ہوا تو پھر عیسی جس کا اس کے بعد آنا ضروری تھا کیونکر پہلے ہی آ گیا۔اور اگر ظاہر پر حمل نہ کریں اور نزول ایلیا کو نزول روحانی قرار دیں تو پھر نزول عیسی کی پیشگوئی میں کیوں ظاہر پر جم بیٹھیں۔نزول برحق اور اس پر ہم ایمان لاتے ہیں بلکہ اس کا ظہور بھی دیکھ لیا لیکن جن معنوں کے رو سے یہود بندر اور سو ر کہلائے اور خدا تعالیٰ کی کتابوں میں لعنتی ٹھہرے اس طور کے نزول کے معنے بعد پہنچنے ہدایت کے وہی کرے جس کو بندر اور سور بننے کا شوق ہو۔خدا تعالیٰ صادق مومنوں کو ایسے معنوں سے اپنی پناہ میں رکھے جو اس لعنت کی بشارت دیتے ہیں جو پہلے یہود پر وارد ہو چکی ہے۔زیادہ اس مسئلہ میں کیا لکھیں اور کیا کہیں جن کو خدا تعالیٰ ہدایت نہ دے ہم کیونکر دے سکتے ہیں۔جن کی آنکھیں وہ مالک نہ کھولے ہم کیوں کر کھول سکتے ہیں۔جن مردوں کو وہ زندہ نہ کرے ہم کیوں کر کریں۔اے مالک و قادر خدا اب فضل کر اور رحم کر اور اس تفرقہ کو درمیان سے اٹھا اور سچ ظاہر کر اور جھوٹ کو نابود کر کہ سب قدرت اور طاقت اور رحمت تیری ہی ہے۔آمین آمین آمین۔