سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 259

سرّالخلافة — Page 213

سر الخلافة ۲۱۳ اردو تر جمه تصرف کرے کہ بجر تحریف معنوی کے اور کوئی دوسرا نام اُس کا ہو ہی نہیں سکتا۔دوسرا فساد یہ ہے کہ جس اتحاد مقولہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا یعنی فـلـمـا تو فیتنی کا وہ اتحاد بھی تو قائم نہ رہا کیونکہ اتحاد تو تب قائم رہتا کہ توفی کے معنوں میں آنحضرت اور حضرت عیسی شریک ہو جاتے۔مگر وہ شراکت تو میسر نہ آئی پھر اتحاد کس بات میں ہوا۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اور لفظ نہیں ملتا تھا جو آپ نے نا حق ایک ایسے اشتراک کی طرف ہاتھ پھیلایا جس کا آپ کو کسی طرح سے حق نہیں پہنچتا تھا۔بھلا زمین میں دفن ہونے والے اور آسمان پر زندہ اٹھائے جانے والے میں ایک ایسے لفظ میں کہ یا مر نے کے اور یا زندہ اٹھائے جانے کے معنے رکھتا ہے کیونکر اشتراک ہو۔کیا ضدین ایک جگہ جمع ہوسکتی ہیں۔اور اگر آیت فلما تو فیتنی میں توفی کے معنے مارنا نہیں تھا تو پھر کیا امام بخاری کی عقل ماری گئی کہ وہ اپنی صحیح میں اسی معنے کی تائید کے لئے ایک اور آیت دوسرے مقام سے اٹھا کر اس مقام میں لے آیا یعنی آیت اِنِّی مُتَوَفِّيكَ اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ قول ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اس جگہ جڑ دیا کہ مُتَوَفِّيكَ مُمِيتُكَ یعنی متوفیک کے یہ معنی ہیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں۔اگر بخاری کا یہ مطلب نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمثیلی معنوں کو ابن عباس کے صریح معنوں کے ساتھ زیادہ کھول دے تو ان دونوں آیتوں کو جمع کرنے اور ابن عباس کے معنوں کے ذکر سے کیا مطلب تھا اور کون ساحل تھا کہ توفی کے معنے کی بحث شروع کر دیتا۔پس در حقیقت امام بخاری نے اس کارروائی سے توفی کے معنوں میں جو کچھ اپنا مذہب تھا ظاہر کر دیا سو اس جگہ ہمارے تائید دعوٹی کے لئے تین چیزیں ہوگئیں۔اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول مبارک کہ جیسے عبد صالح یعنی عیسی نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کہا۔میں بھی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کہوں گا۔دوسرے ابن عباس سے توفی کے لفظ کے معنے مارنا ہے۔تیسرے امام بخاری کی شہادت جو اس کی عملی کارروائی سے ظاہر ہورہی ہے۔اب سوچ کر دیکھو کہ کیا ہم نے حدیث اور قرآن کو چھوڑایا ہمارے مخالفوں نے۔