سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 259

سرّالخلافة — Page 212

سر الخلافة ۲۱۲ اردو ترجمہ مصداق تھے۔اب کیا ہمیں جائز ہے کہ ہم یہ بات زبان پر لاویں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے حقیقی مصداق نہیں تھے اور حقیقی مصداق عیسی علیہ السلام ہی تھے اور جو کچھ اس آیت سے درحقیقت خدا تعالیٰ کا منشاء تھا اور جو معنے توفی کے واقعی طور پر اس جگہ مراد الہی تھی اور قدیم سے وہ مراد علم الہی میں قرار پا چکی تھی یعنی زندہ آسمان پر اٹھائے جانا نعوذ باللہ اس خاص معنی میں آنحضرت صلعم شریک نہیں تھے بلکہ آنحضرت نے اس آیت کو اپنی طرف منسوب کرنے کے وقت اس کے معنوں میں تغییر و تبدیل کر دی ہے اور دراصل جب اس لفظ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کریں تو اُس کے اور معنے ہیں اور جب حضرت مسیح کی طرف یہ لفظ منسوب کریں تو پھر اس کے وہی حقیقی معنے لئے جاویں گے جو خدائے تعالیٰ کے قدیم ارادہ میں تھے۔پس اگر یہی بات سچ ہے تو علاوہ اس فساد صریح کے کہ ایک نبی کی شان سے بہت بعید ہے کہ وہ ایک قراردادہ معنوں کو توڑ کر اُن میں ایک ایسا بعض نادان کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کلام میں گما کا لفظ موجود ہے جوکسی قدر فرق پر دلالت کرتا ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توفی اور حضرت عیسیٰ کی توفی میں کچھ فرق چاہیئے۔مگر افسوس کہ یہ نادان نہیں سوچتے کہ مُشَبَّه مُشَبه به کی طر ز واقعات میں خواہ کچھ فرق ہو لیکن لغات میں فرق نہیں پڑ سکتا۔مثلاً کوئی کہے کہ جس طرح زید نے روٹی کھائی میں نے بھی اسی طرح روٹی کھائی۔سواگر چہ روٹی کھانے کے وضع یا عمدہ اور ناقص ہونے میں فرق ہو مگر روٹی کا لفظ جو ایک خاص معنوں کے لئے موضوع ہے اُس میں تو فرق نہیں آئے گا۔یہ تو نہیں کہ ایک جگہ روٹی سے مراد روٹی اور دوسری جگہ پتھر ہو۔لغات میں تو کسی طرح تصرف جائز نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور اسی قسم کا مقولہ ہے جو ابن تیمیہ نے زاد المعاد میں نقل کیا ہے اور وہ عبارت یہ ہے۔قال یا معشر قريش ما ترون انى فاعل بكم قالوا خيرًا اخ كريم وابن اخ كريــم قال فاني اقول لكم كما قال يوسف لاخوته لا تثريب عليكم اليوم اذهبوا فانتم الطلقاء۔الصفحه ۴۱۵۔اب دیکھو تشریب کا لفظ جن معنوں سے حضرت یوسف کے قول میں ہے انہیں معنوں سے آنحضرت صلعم کے قول میں ہے۔منہ