سرّالخلافة — Page 204
۶۹۰ سر الخلافة ۲۰۴ اردو تر جمه نسبت کہا گیا تھا کہ جاہل ہے اور ایک صیغہ تک اس کو معلوم نہیں وہ اُن تمام مکفر وں کو جو اپنا نام مولوی رکھتے ہیں بلند آواز سے کہتا ہے کہ میری تفسیر کے مقابل پر تفسیر بناؤ تو ہزار روپے انعام لو اور نورالحق کے مقابل پر بناؤ تو پانچ ہزار روپیہ پہلے رکھا اور کوئی مولوی دم نہیں مارتا۔کیا یہی مولویت ہے جس کے بھروسہ سے مجھے کا فرٹھہرایا تھا۔ایھا الشیخ اب وہ الہام پورا ہوا یا کچھ کسر ہے۔ایک دنیا جانتی ہے کہ میں نے اسی فیصلہ کی غرض سے اور اسی نیت سے کہ تا شیخ بطالوی کی مولویت اور تمام کفر کے فتوے لکھنے والوں کی اصلیت لوگوں پر کھل جائے۔کتاب کرامات الصادقین عربی میں تالیف کی اور پھر اس کے بعد رسالہ نورالحق بھی عربی میں تالیف کیا اور میں نے صاف صاف اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب یا تمام ملکفر مولویوں سے کوئی صاحب رسالہ کرامات الصادقین کے مقابل پر کوئی رسالہ تالیف کریں تو ایک ہزار رو پید ان کو انعام ملے گا۔اور اگر نور الحق کے مقابل پر رسالہ لکھیں تو پانچ ہزار روپیہ ان کو دیا جائے گا۔لیکن وہ لوگ بالمقابل لکھنے سے بالکل عاجز رہ گئے۔اور جو تاریخ ہم نے اس درخواست کے لئے مقرر کی تھی یعنی اخیر جون ۱۸۹۴ ء وہ گزرگئی۔شیخ صاحب کی اس خاموشی سے ثابت ہو گیا کہ وہ علم عربی سے آپ ہی بے بہرہ اور بے نصیب ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ اول درجہ کے دروغ گو اور کاذب اور بے شرم ہیں کیونکہ انہوں نے تو تقریرا و تحریر صاف اشتہار دے دیا تھا کہ یہ شخص علم عربی سے محروم اور جاہل ہے یعنی ایک لفظ تک عربی سے نہیں جانتا تو پھر ایسے ضروری مقابلہ کے وقت جس میں اُن پر فرض ہو چکا تھا کہ وہ اپنی علمیت ظاہر کرتے کیوں ایسے چُپ ہو گئے کہ گویا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں خیال کرنا چاہیئے کہ ہم نے کس قدر تاکید سے اُن کو میدان میں بلایا اور کن کن الفاظ سے اُن کو غیرت دلا نا چاہا مگر انہوں نے اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ہم نے صرف اس خیال سے کہ شیخ صاحب کی عربی دانی کا دعوی بھی فیصلہ پا جائے رسالہ نور الحق میں یہ اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب عرصہ تین ماہ میں اسی قدر کتاب تحریر کر کے شائع کر دیں اور وہ کتاب در حقیقت