سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 259

سرّالخلافة — Page 203

سر الخلافة ۲۰۳ عام اطلاع کے لئے ایک اشتہار اردو ترجمه وہ تمام صاحب جنہوں نے شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کے رسائل اشاعت السنہ دیکھے ہوں گے یا ان کے وعظ سنے ہوں گے یا ان کے خطوط پڑھے ہوں گے وہ اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ شیخ صاحب موصوف نے اس عاجز کی نسبت کیا کچھ کلمات ظاہر فرمائے ہیں اور کیسے کیسے خود پسندی کے بھرے ہوئے کلمات اور تکبر میں ڈوبے ہوئے تربات اُن کے منہ سے نکل گئے ہیں کہ ایک طرف تو انہوں نے اس عاجز کو کذاب اور مفتری قرار دیا ہے اور دوسری طرف بڑے زور اور اصرار سے یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ میں اعلیٰ درجہ کا مولوی ہوں اور یہ شخص سراسر جاہل اور نا دان اور زبان عربی سے محروم اور بے نصیب ہے اور شاید اس بکواس سے ان کی غرض یہ ہوگی کہ تا ان باتوں کا عوام پر اثر پڑے اور ایک طرف تو وہ شیخ بطالوی کو فاضل یگانہ تسلیم کر لیں اور اعلیٰ درجہ کا عربی دان مان لیں اور دوسری طرف مجھے اور میرے دوستوں کو یقینی طور پر سمجھ لیں کہ یہ لوگ جاہل ہیں اور نتیجہ یہ نکلے کہ جاہلوں کا اعتبار نہیں۔جو لوگ واقعی مولوی ہیں انہیں کی شہادت قابلِ اعتبار ہے۔میں نے اس بیچارہ کو لاہور کے ایک بڑے جلسہ میں یہ الہام بھی سنا دیا تھا کہ انسی مهین من اراد اهانتك كہ میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کے درپے ہو۔مگر تعصب ایسا بڑھا ہوا تھا کہ یہ الہامی آواز اس کے کان تک نہ پہنچ سکی اس نے چاہا کہ قوم کے دلوں میں یہ بات جم جائے کہ یہ شخص ایک حرف عربی کا نہیں جانتا پر خدا نے اسے دکھلا دیا کہ یہ بات الٹ کر اُسی پر پڑی۔یہ وہی الہام ہے جو کہا گیا تھا کہ میں اُسی کو ذلیل کروں گا جو تیری ذلّت کے درپے ہو گا۔سبحان اللہ کیسے وہ قادر اور غریبوں کا حامی ہے پھر لوگ ڈرتے نہیں کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں کہ وہی شخص جس کی