سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 259

سرّالخلافة — Page 199

سر الخلافة ۱۹۹ اردو ترجمہ زُلَالُكَ مَطْلُوبٌ فَاخْرِجُ عُيُونَهُ جَلالُكَ مَقْصُودٌ فَايْد وَأَظْهِرِ تیرا آب زلال مجھے مطلوب ہے سو اس کے چشموں کو جاری کر۔تیرا جلال مقصود ہے پس تائید کر اور اپنا جلال ظاہر کر۔وَجَدْنَاكَ رَحْمَانًا فَمَا الْهَمُ بَعْدَهُ نَعُوذُ بِنُورِكُ مِنْ زَمَانٍ مُّكَورِ جب ہم نے تجھ کو رحمان پایا ہے تو اس کے بعد کیا غم ہو سکتا ہے۔ہم تاریک زمانہ سے تیرے نور کی پناہ لیتے ہیں۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ كُلُّهُ لِرَبِّ كَرِيم قَادِرٍ وَّ مُيَسْرِ اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ تمام کی تمام حمد رب کریم قادر اور آسانی پیدا کرنے والے کے لئے ہے۔الوصية الوصيت إن من الشهود أن القدح يہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ تنقید، تنقید کا ، اور يوجب القدح، والمدح تعریف، تعریف کا موجب بنتی ہے۔کیونکہ : يـوجـب الـمـدح۔فإنك إذا آپ کسی شخص سے یہ کہیں کہ تمہارا باپ نیک قلت لرجل إن أباك رجل شریف آدمی ہے تو وہ آپ کے باپ کے متعلق یہ شریف صالح، فلن يقول ہرگز نہیں کہے گا کہ وہ شریر بد بخت ہے بلکہ وہ آپ لأبيك إنه شریر طالح کو نہایت عمدہ کلام سے خوش کرے گا۔اور وہ ویسے بل يرضيك بكلام ،زگاہ ہی آپ کے والد کی تعریف کرے گا جیسے آپ نے ويمدح أباك كمثل مدح اُس کے والد کی تعریف کی ہوگی۔بلکہ اس سے بھی مدحت به أباه، بل يذكره اصفی و اعلی تر ذکر کرے گا۔لیکن اگر آپ نے گالی بأصفاه و أعلاه، وأما إذا دی ہو گی تو آپ کو وہی کچھ کہے گا جو آپ نے کہا ہو شتمت فيكلّم كما كلّمت گا۔پس اسی طرح جو لوگ صدیق (اکبر) اور فكذلك الذين يسبون الصديق ( عمر ) فاروق کو گالیاں دیتے ہیں تو حقیقہ وہ والفاروق، فإنما هم يسبون (حضرت علی کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔عليا ويؤذونه ويُضيعون الحقوق اور انہیں اذیت پہنچاتے اور حقوق تلف کرتے ہیں۔