سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 259

سرّالخلافة — Page 183

سر الخلافة ۱۸۳ اردو ترجمہ وَتَرَكُوا هَوَى الْأَوْطَانِ لِلَّهِ خَالِصًا وَجَاؤُا الرَّسُوْلَ كَعَاشِقٍ مُتَخَيْرِ اور انہوں نے خلوص نیت سے اللہ کے لئے وطن کی محبت چھوڑ دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عاشق شیدا کی طرح آئے۔عَلَى الضُّعْفِ صَوَّالُوْنَ مِنْ قُوَّةِ الْهُدَى عَلَى الْجُرْحِ سَلالُوْنَ سَيْفَ التَّشَنُّرِ وہ باوجود ضعف کے ہدایت کی قوت کے ساتھ حملہ آور تھے۔مجروح ہو جانے پر بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی تلوار سونتنے والے تھے۔اَتُكْفِرُ خُلُفَاءَ النَّبِيِّ تَجَاسُرًا وَتَلْعَنُ مَنْ هُوَ مِثْلَ بَدْرٍ مُنَوَّرٍ اے مخاطب! کیا تو جسارت سے نبی کے خلفاء کی تکفیر کرتا ہے؟ کیا تو ان پر لعنت کرتا ہے جو کامل چاند کی طرح روشن ہیں؟ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ سَاءَ تُكَ اَمْرُ خِلَافَةٍ فَحَارِبُ مَلِيْكًا اِجْتَبَاهُمُ كَمُشْتَرِى اور اگر تجھ کو (ان کی ) خلافت کا معاملہ بُرا لگتا ہے تو اس بادشاہ سے لڑائی کر جس نے انہیں خریدار کی طرح پسند کر لیا ہے۔فَبِإِذْنِهِ قَدْ وَقَعَ مَا كَانَ وَاقِعَا فَلَا تَبْكِ بَعْدَ ظُهُورِ قَدْرٍ مُّقَدَّرِ اُسی بادشاہ کے اذن سے واقع ہونے والا امر واقعہ ہو چکا ہے پس مقدر تقدیر کے ظاہر ہو جانے کے بعد مت رو۔وَمَا اسْتَخْلَفَ اللهُ الْعَلِيْمُ كَذَاهِلِ وَمَا كَانَ رَبُّ الْكَائِنَاتِ كَمُهْتَرِ اور انہیں خداوند علیم نے بھولنے والے کی طرح خلیفہ نہیں بنایا اور رب کائنات غلط بات کہنے والے کی طرح نہ تھا۔وَقُضِيَتْ أُمُورُ خِلَافَةٍ مَّوُعُودَةٍ وَفِي ذَاكَ آيَاتٌ لِقَلْبٍ مُّفَكِّرِ اور خلافت موعودہ کے کام پورے ہو گئے اور اس میں سوچنے والے دل کے لئے نشانات ہیں۔وَإِنِّي أَرَى الصِّدِّيقَ كَالشَّمْسِ فِي الضُّحَى مَـائِــرُهُ مَقْبُوْلَةٌ عِندَهُوْجِرٍ میں ( ابوبکر صدیق کو چاشت کے سورج کی طرح پاتا ہوں آپ کے مناقب و اخلاق ایک روشن ضمیر انسان کی نگاہ میں مقبول ہیں۔وَكَانَ لِذَاتِ الْمُصْطَفَى مِثْلَ ظِلِّهِ وَمَهُمَا أَشَارَ الْمُصْطَفَى قَامَ كَالْجَرِي وہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آپ کے سائے کی مثل تھا اور جب بھی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا تو وہ بہادر کی طرح اٹھ کھڑا ہوا۔وَاعْطى لِنَصْرِ الدِّينِ اَمْوَالَ بَيْتِهِ جَمِيعًا سِوَى الشَّيْءِ الْحَقِيرِ الْمُحَقِّرِ اور اس نے دین کی نصرت کے لئے اپنے گھر کے سب اموال دے دیئے سوائے ناچیز اور معمولی اشیاء کے۔وَلَمَّا دَعَاهُ نَبِيُّنَالِرِفَاقَةٍ عَلَى الْمَوْتِ أَقْبَلَ شَائِقًا غَيْرَ مُدْبِرِ اور جب ہمارے نبی نے اسے رفاقت کے لئے بلایا تو وہ موت پر شوق کے ساتھ آگے بڑھا اس حال میں کہ وہ پیٹھ پھیر نے والا نہ تھا۔وَلَيْسَ مَحَلَّ الطَّعَنِ حُسْنُ صِفَاتِهِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ أَزْمَعْتَ جَوْرًا فَعَيْرِ اور اس کی اچھی صفات طعن کا محل نہیں۔اگر تو نے ظلم سے ارادہ کیا ہے تو عیب لگاتارہ۔