سرّالخلافة — Page 182
سر الخلافة ۱۸۲ اردو تر جمه القصيدة في مدح أبي بكر الصديق و عمر الفاروق و غيرهما من الصحابة رضی الله عنهم۔۔حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی مدح میں قصیدہ HH HH رُوَيْدَكَ لَا تَهْجُ الصَّحَابَةَ وَاحْذَرِ وَلَا تَقْفُ كُلَّ مُزْوَرٍ وَّ تَبَصَّرِ سنجل جا۔صحابہ کی ہجو نہ کر اور ڈر اور ہر فریبی کے پیچھے نہ چل اور بصیرت سے کام لے۔وَلَا تَتَخَيَّرُ سُبُلَ غَيٌّ وَشِقْوَةٍ وَلَا تَلْعَنَنُ قَوْمًا أَنَارُوا كَنَيْرِ گمراہی اور بدبختی کے راستوں کو اختیار نہ کر اور ایسے لوگوں پر لعنت نہ کر جو آفتاب کی طرح روشن ہوئے۔أُولئِكَ اَهْلُ اللهِ فَاخْشَ فِنَاءَهُمْ وَلَا تَقْدَحَنُ فِي عِرْضِهِمْ بِتَهَورِ یہ لوگ اہل اللہ ہیں۔سوان کے صحن میں داخل ہونے سے ڈر اور دیدہ دلیری سے ان کی عزت و آبرو پر طعنہ زنی نہ کر۔أولئِكَ حِزْبُ اللهِ حُفَّاظُ دِينِهِ وَاِيُدَاءُ هُمُ ابْدَاءُ مَوْلًى مُؤْثِرِ ب سب اللہ کے گروہ ہیں اور اس کے دین کے محافظ ہیں اور ان کو ایذا دینا انہیں پسند کرنے والے مولیٰ کو ایذا دینا۔بنا ہے۔تَصَدَّوْا لِدِينِ اللهِ صِدْقًا وَّ طَاعَةٌ لِكُلِّ عَذَابٍ مُحْرِقٍ أَوْ مُدَمِّر وہ تیار ہو گئے دینِ الہی کی خاطر صدق اور اطاعت سے ہر جلانے والے یا مہلک عذاب کے اٹھانے کے لئے۔وَ طَهَّرَ وَادِي الْعِشْقِ بَحْرَ قُلُوبِهِمْ فَمَا الزَّبَدُ وَالْغُفَّاءُ بَعْدَ التَّطَهُرِ عشق کی وادی نے ان کے دلوں کے سمندر کو پاک کر دیا پس جھاگ اور میل کچیل پاک ہو جانے کے بعد باقی نہیں رہی۔وَجَاءُ وُا نَبِيَّ اللَّهِ صِدْقًا فَنُوِّرُوا وَلَمْ يَبْقَ أَثْرٌ مِّنْ ظَلَامٍ مُكَدِّرِ اور وہ اللہ کے نبی کے پاس صدق دل سے آئے تو روشن کر دیئے گئے اور کدورت پیدا کرنے والی تاریکی کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔(۵۸) بِأَجْنِحَةِ الَا شُوَاقِ طَارُوا إِطَاعَةً وَصَارُوا جَوَارِحَ لِلنَّبِيِّ الْمُوَفَّرِ وہ فرمانبرداری کرتے ہوئے شوق کے پروں کے ساتھ اڑے اور نبی محترم کے لئے وہ دست و بازو بن گئے۔وَنَحْنُ وَأَنْتُمْ فِي الْبَسَاتِينِ نَرْتَعُ وَهُمْ حَضَرُوا مَيْدَانَ قَتْلِ كَمَحْشَرِ ہم اور تم تو (آج ) باغوں میں مزے کرتے ہیں حالانکہ وہ قتل کے میدان میں روز محشر کی طرح حاضر ہوئے تھے۔