سرّالخلافة — Page 161
سر الخلافة ۱۶۱ اردو تر جمه فاقتضى تدبيره الحق أن يجعل پس اُس کے بچے انتظام نے تقاضا کیا کہ وہ اس المرسَلَ سَمِيَّ عيسى الإصلاح فرستادہ کو عیسائیوں کی اصلاح کے لئے عیسی کا ہمنام بنائے۔اور مسلمانوں کی تربیت کے لئے المتنصرين، ويجعله سَمِيَّ أحمد لتربية المسلمين، ويجعله حاذيًا اُسے احمد کا ہمنام بنائے۔اور اُسے ان دونوں کی حذوهما وقافيًا خطوهما کامل پیروی کرنے والا اور دونوں کے نقش قدم فسماه بالاسمين المذكورين پر چلنے والا بنائے۔اسی وجہ سے اُس نے اُس وسقاه من الراحین، وجعله دافع کے مذکورہ دونوں نام رکھے۔اور دوراحت بخش هم المؤمنين و رافع فتن شرابوں میں سے اُسے پلایا اور اُسے مومنوں مسيحيّين فهو عند اللہ کے غم کو دور کرنے والا اور مسیحیوں کے فتنوں کو عيسى من جهة، و أحمد من رفع كر نيوالا بنایا۔پس وہ اللہ کے نزدیک ایک جهة، فاترك السبل الأخياف جہت سے عیسی اور دوسری جہت سے احمد ہے۔وتجنب الخلاف والاعتساف پس تو متفرق راہوں کو چھوڑا اور مخالفت اور گمراہی واقبل الحق ولا تكن كالضنين سے بچ۔حق کو قبول کر اور بخیل انسان کی طرح نہ والنبي صلى الله علیه وسلم بن۔اور نبی کریم ﷺ نے جیسے اُسے مسیح کی كما وصفه بصفات المسيح صفات سے متصف قرار دیا یہاں تک کہ اُس حتى سماه ،عیسی، كذلك کا نام عیسی رکھا۔اُسی طرح آپ (صلی اللہ وصفه بصفات ذاته الشريف علیہ وسلم) نے اُسے اپنی ذات شریف کی صفات حتى سماه أحمد و مشابها سے متصف فرمایا۔یہاں تک کہ اُس کا نام احمد بالمصطفى، فاعلم أن هذين رکھا۔اور مصطفیٰ " کا مشابہ قرار دیا۔لہذا تمہیں الاسمين قد حصلا له باعتبار معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ دونوں نام دونوں فرقوں کی توجه التام إلى الفرقتين جانب پوری توجہ کے اعتبار سے اُسے حاصل ہوئے