سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 259

سرّالخلافة — Page 116

سر الخلافة اردو تر جمه حتى زاغوا عن محجّة ذی یہاں تک کہ وہ خدائے ذوالجلال کے راستے سے ذى الجلال، فأدركهم ذات بكرة ہٹ گئے۔پھر اچانک یوں ہوا کہ ایک صبح اس کے وابل من مُزنِ رحمته، وبعث | ابر رحمت کی موسلا دھار بارش ان پر برسی اور ایک مجدد لإحياء الدين، فأخذ مجدد احیاء دین کے لئے مبعوث کر دیا گیا۔تب الظانون ظن السوء يعتذرون بدظنی کرنے والے اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں إلى الله ربّ العالمين۔معذرت کرنے لگے۔و آخرون يكذبونه ويقولون ما اور کچھ اور لوگ اسے جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں أنزل الله من شيء ، وإن أنت إلا کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی اور تو تو بس ایک من المفترين فينزل الوابل تترا مفتری ہے۔پھر موسلا دھار بارش لگا تار نازل حتى لا يُبقى من سوء الظنّ أثراء ہوتی ہے یہاں تک کہ بدظنی کا نشان تک باقی نہیں فيرجع الراجعون إلى الحق رہنے دیتی۔تب رجوع کرنے والے نادم ہو کر متندمين۔وأما الأشقياء فما حق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اور وہ جو ينتفعون من وابل الله شيئا، بل بدبخت ہیں وہ اللہ کی اس باران رحمت سے کچھ يزيدون بغيا وظلما وعسفا بھی فائدہ حاصل نہیں کرتے بلکہ وہ بغاوت اور ظلم وكانوا قوما ظالمین۔وما وتعدّی میں اور بڑھ جاتے ہیں اور وہ ظالم قوم ہی اغترفوا من ماء الله وما شربوا ہیں۔انہوں نے اللہ کے پانی سے ایک چلو تک وما اغتسلوا وما توضأوا، وما نہیں بھرا۔نہ (اس میں سے ) پیا، نہ غسل کیا اور نہ كانوا أن يسقوا الحرث، وكانوا ہی وضو کیا اور نہ کھیتی کو سیراب کرنے والے بنے قوما محرومين، فما رأوا الحق اور وہ محروم قوم ہیں پس انہوں نے حق کو نہ دیکھا لأنهم كانوا عمين، وإن فی کیونکہ وہ اندھے تھے۔اور اس میں غور وفکر ذلك لآيات لقوم مفکرین کرنے والی قوم کے لئے بہت سے نشانات ہیں۔