سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 259

سرّالخلافة — Page 7

سر الخلافة اردو تر جمه وانشنيتُ أقدم رجلا وأؤخر جس کے نتیجے میں میں ایک قدم آگے بڑھاتا تو أخرى، حتى قوّانی ربّی دوسرا قدم پیچھے ہٹاتا۔یہاں تک کہ میرے بے نیاز الأغنى، وألقى فى روعی ما پروردگار نے مجھے قوت بخشی اور جو چاہا میرے دل ألقى، فنهضت لشهادة الحق میں ڈالا جس پر میں ایک واضح حق کی شہادت الأجلى، ولا أخاف إلا الله دینے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا اور میں اپنے بزرگ و الأعلى، والله كاف لعباده برتر اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔اور اللہ اپنے المتوكلين۔متوکل بندوں کے لئے کافی ہے۔واعلم أن أهل السنة عادوني تو جان لے کہ اہل سنت نے میرے منصب کے في شَرُخ شأني، والشيعة آغاز میں مجھ سے دشمنی کی اور شیعہ حضرات نے كلموني في إقبال ،زماني، وإني میرے زمانہ اقبال میں مجھے چرکے لگائے۔بلا شبہ سمعت من الأولين کلمات میں نے پہلوں سے بڑی باتیں سنیں اور جو باتیں میں كبيرة، وسأسمع من الآخرين ان دوسروں سے سنوں گا وہ ان سے بھی بڑھ کر ہوں أكبر منها، وسأصبر إن شاء گی۔اور انشاء اللہ میں صبر کروں گا تا آنکہ میرے الله حتى يأتيني نصر ربّي، هو رب کی نصرت میرے پاس آ جائے۔میں جہاں بھی آجائے۔معى حيثما كنتُ ؛ یرانی ہوں وہ میرے ساتھ ہے۔وہ مجھے دیکھتا اور مجھ پر رحم ويرحمني وهو أرحم الراحمين فرماتا ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ ورأيت أكثر أحزاب الشيعة لا رحم کرنے والا ہے۔اور میں نے شیعوں کے اکثر يخافون عند تطاول الألسنة گروہوں کو دیکھا ہے کہ وہ زبان درازی کرتے وقت ولا يتقون ديان الآخرة، ولا خائف نہیں ہوتے اور نہ ہی آخرت کی جزا سزا کے يجمعون نشوب الحقيقة، ولا مالک سے ڈرتے ہیں۔اور نہ تو وہ حقیقت کی دولت جمع يذوقون لبوب الطريقة کرتے ہیں اور نہ ہی طریقت کے مغز سے آشنا ہیں۔