سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 259

سرّالخلافة — Page 6

سر الخلافة اردو تر جمه وربانی بعنایات خاطره اور اپنی عنایات ذاتی سے میری تربیت فرمائی اور وجعلني من المحفوظين مجھے محفوظ لوگوں میں سے بنا دیا اور عین اس وقت وبينما أنا أفرّ من سهام أهل جب میں اہل سنت کے تیروں سے بچنے کی کوشش السنّة، وأسمع منهم أنواع كر رہا تھا اور ان کی طرف سے طرح طرح کے لعن کر الطعن واللعنة، إذ وصلني طعن سُن رہا تھا کہ بعض معزز شیعہ حضرات اور اس بعض المكاتيب من بعض أعزة فرقہ کے علماء کی طرف سے مجھے کچھ خطوط موصول الشيعة وعلماء تلك الفرقة ہوئے۔(جن میں ) انہوں نے مجھ سے خلافت وسألوني عن أمر الخلافة کے بارہ میں اور خاتم الائمہ کی علامات کی نسبت وأمارات خاتم الأئمة، وكانوا دریافت کیا تھا۔اور وہ صداقت اور راہنمائی کے من طلباء الحق والاهتداء بل متلاشی تھے بلکہ ان میں سے کئی ایک میرے بارے بعضهم يظنون بی ظن الأحباء ، میں دوستوں کی طرح حسن ظن رکھتے تھے اور مجھے ويتخذونـنـى مـن النصحاء ، اپنا خیر خواہ قرار دیتے تھے اور نہایت مصفا اخلاص ویذکروننی بخلوص اور پاک دل کے ساتھ میرا تذکرہ کرتے۔تب أصفى وقلب أزكى، فكتبوا انہوں نے انتہائی شوق اور بڑی چاہت سے مجھے المكاتيب بشوق أبهى خطوط لکھے اور کہا کہ جلدی کوئی ایسی کافی وشافی وحرّةٍ عُظمى، وقالوا حَيَّ هَل کتاب تصنیف فرما ئیں جو ہمیں شفا بخشے اور ہمیں بكتاب أشفى، يشفينا ويروينا سیراب کرے اور ہمیں ایک مضبوط دلیل فراہم ويهب لنا برهانا أقوى ثم کرے۔پھر انہوں نے مجھے مسلسل اتنے خطوط أرسلوا إلى خطوطا تترى، حتی ارسال کئے کہ میں نے ان میں (حق کے لئے ) وجدت فيها ريح كبد حرى، دلی تڑپ کی مہک پائی۔جس پر مجھے اپنے فتذكرت قصتي الأولى، بارے میں اہل سنت کا ) سابقہ رویہ یاد آ گیا