سرّالخلافة — Page 104
سر الخلافة ۱۰۴ اردو ترجمه والسعيد الأتم الأكمل هو الذى اتم و اکمل خوش بخت وہی شخص ہے جس نے حبیب أحاط عادات الحبیب حتی خدا کی عادات کا احاطہ کیا ہو۔یہاں تک کہ الفاظ، ضـاهـاه في الألفاظ والكلمات كلمات اور تمام طور طریقوں میں آپ سے والأساليب۔والأشقياء لا مشابہت پیدا کر لی ہو۔بد بخت لوگ تو اس کمال کو يفهمون هذا الكمال كالأكمه سمجھ نہیں سکتے جس طرح ایک پیدائشی اندھا رنگوں الذي لا يرى الألوان والأشكال، اور شکلوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ایک بد بخت کے نصیب ولا حظ للشقى إلا من تجلیات میں تو پُر رعب اور پُر ہیبت (خدا) کی تجلیات کے العظموت والهيبة، فإن فطرته سوا کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اس کی فطرت رحمت کے لا ترى آيات الرحمة، ولا تشم نشانات نہیں دیکھ سکتی۔اور جذب اور محبت کی ريح الجذبات والمحبّة، ولا خوشبو کو نہیں سونگھ سکتی اور یہ نہیں جانتی کہ خلوص، تدرى ما المصافاة والصلاح، خیر خواہی، اُنس اور فراخی قلب کیا ہیں۔کیونکہ والأنس والانشراح، فإنها وه (فطرت ) تو ظلمات سے بھری پڑی ہے۔پھر ممتلاة بظلمات، فكيف تنزل اس میں برکات کے انوار اتریں تو کیسے؟ بلکہ بها أنوار برکات؟ بل نفس بدبخت شخص کا نفس تو ایک تند و تیز آندھی کے الشقي تتموج تموج الريح تموج کی طرح موجیں مارتا ہے اور اس کے العاصفة، وتشغله جذباتها عن جذبات حق اور حقیقت دیکھنے سے اسے روکتے ۳۳ رؤية الحق والحقيقة، فلا ہیں۔اس لئے وہ سعادت مندوں کی طرح يجيء كأهل السعادة راغبا في معرفت میں راغب ہوتے ہوئے (حق) کی المعرفة۔وأما الصديق فقد خُلق طرف نہیں آتا۔جبکہ صدیق کی تخلیق مبدء فیضان متوجها إلى مبدأ الفيضان کی طرف متوجہ ہونے اور رسول رحمن علی ومقبلا على رسول الرحمن کی طرف رُخ کرنے کی صورت میں ہوئی۔