سرّالخلافة — Page 97
سر الخلافة ۹۷ اردو ترجمہ وما ظهر الأمن في ذلك الزمن، اور اس دور میں امن ظاہر نہ ہوا۔بلکہ امن بل ظهر الخوف بعد الأمن، کے بعد خوف ظاہر ہوا۔اور فتنے شروع وبدأت الفتن، وتواترت المحن ہوئے۔اور لگا تار مصائب آئے اور اسلام وظهرت اختلالات فی نظام کے نظم ونسق میں اختلال ظاہر ہوا اور الإسلام، واختلافات في أُمّة خير خير الا نام ﷺ کی امت میں اختلافات الأنام، وفتحت أبواب الفتن، نمودار ہوئے۔اور فتنوں کے دروازے اور وسدد الحقد والضغن، وكان في حسد اور کینے کی راہیں کھل گئیں۔اور ہر نئے كل يوم جدید نزاع قوم جدید روز قوم کا نیا جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا ، زمانے کے وكثرت فتن الزمن، وطارت فتنوں کی بہتات ہوگئی اور امن کے پرندے طيور الأمن ، وكانت المفاسد اڑ گئے۔اور مفاسد میں جوش پیدا ہوا اور فتنے هائجة، والفتن مائجة ، حتى قتل موجزن ہو گئے۔یہاں تک کہ سید المظلومین الحسين سيد المظلومين۔حسین قتل کر دئیے گئے۔ومن تظنّى أن الخلافة كان اور جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ خلافت اللہ أمرًا روحانيا من الله ربّ پروردگار عالم کی جانب سے ایک روحانی العالمين، وكان مصداقه معاملہ تھا اور پہلی گھڑی سے ہی حضرت علی المرتضى من أوّل الحين مرتضیٰ اس کے مصداق تھے لیکن انہوں نے ولكنه أنف و استحى أن يجادل شرم وحیا کی وجہ سے یہ پسند نہ کیا کہ وہ ظالم قوم قوما ظالمين، فهذا عذر قبیح سے جھگڑا مول لیں۔تو ایسا خیال ایک عذر قبیح وما يتلفظ به إلا وقیح، بل ہے اور ایک بے حیا شخص ہی ایسی بات منہ پر الحق الذى يجب أن يُقبل لا سکتا ہے۔ہاں وہ حق جس کا قبول کرنا واجب والصدق الذى لزم أن يُتقبل ہے اور وہ سچائی جسے تسلیم کرنا لازمی ہے۔