سلسلہ احمدیہ — Page 676
676 اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال یو کے کا جلسہ اپنے انتظامات اور معیار اور پروگراموں کے لحاظ سے بہتری اور وسعت اختیار کرتا گیا۔اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھتی رہی۔چنانچہ ہجرت کے پانچ سال بعد 1989ء میں جو جماعت کا صد سالہ جشن تشکر کا سال تھا جماعت احمد یہ یوکے کے جلسہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد 14 ہزار سے زائد تھی۔2001ء میں برطانیہ میں گائیوں میں 'منہ گھر ( Foot and Mouth) کی بیماری کے پھیلنے کی وجہ سے اسلام آباد میں جلسہ سالانہ کے انعقاد کی اجازت نہ ملی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس سال 24 تا 26 اگست 2001 ء کو جرمنی کے شہر منہائم میں منعقد ہونے والے جماعت احمد یہ جرمنی کے جلسہ سالانہ کومرکزی حیثیت کا جلسہ قراردیا۔اس جلسہ میں یو کے سے بھی بڑی تعداد میں افراد جماعت نے شرکت کی۔اس جلسہ کی حاضری 48 ہزار سے زائد تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی زندگی کے آخری جلسہ سالانہ یو کے 2002ء میں شامل ہونے والوں کی تعداد 19 ہزار سے زائد تھی۔ابتدا میں جلسہ کی آڈیو/ ویڈیوریکارڈنگ کر کے اس کی کیسٹس پاکستان اور دوسرے ممالک میں پہنچائی جاتی رہیں۔پھر جلسہ کے موقع پر سیٹلائٹ کے ذریعہ نشریات شروع ہوئیں تو آغاز میں صرف حضرت خلیفتہ اسیح کے خطابات اور بعد ازاں جلسہ کی مکمل کوریج نشر ہوتی رہی۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ یورپ و دنیا کے دیگر ممالک کے دورہ جات کے دوران ان کے جلسہ ہائے سالانہ میں بھی شمولیت فرماتے رہے۔حضور رحمہ اللہ جس ملک کے جلسہ سالانہ میں بھی شرکت فرماتے وہ جلسہ آپ کی شمولیت کی وجہ سے غیر معمولی حیثیت اختیار کر جاتا۔اس کے شرکاء کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوتا اور اس کے انتظامات بھی پھیل جاتے۔اکثر حضور رحمہ اللہ وہاں کے جلسوں کے انتظامات کا معائنہ بھی فرماتے اور انہیں بہتر بنانے کے لئے رہنمائی فرماتے۔اسی طرح اپنے خطبات و خطابات میں جلسہ کی غرض وغایت اور میزبانوں اور مہمانوں کی ذمہ داریوں سے آگاہ فرماتے۔یوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے ممالک میں مرکزی روایات کے مطابق جلسہ سالانہ کے انتظامات منظم ہوئے۔اور جلسہ کے