سلسلہ احمدیہ — Page 631
631 مقدس کام کو آگے بڑھایا اور خوابوں کو حقیقت بنا دیا اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ پھر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے فرمایا : اب میں عالمی بیعت کے لئے بیٹھوں گا۔میرے سامنے پانچ continents یعنی بڑا عظموں کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں۔میں ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھوں گا اور بیعت لوں گا۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ہاتھ دوسرے کے ہاتھ پر رکھنا ہوتا ہے پھر بیعت کی جاتی ہے۔قرآن کریم یہ بیان نہیں کرتا۔قرآن کریم فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جب تو بیعت لے رہا تھا تو تیرا ہاتھ نہیں تھا جو ان کے ہاتھ پر تھا بلکہ ید اللهِ فَوْق آید تم کیونکہ تُو کامل طور پر خدا کا ہو چکا ہے یہ خدا کا ہاتھ تھا جو ان پر تھا۔اس میں بیعت کی ایک حکمت بھی بیان ہوتی ہے جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔37 بیعت میں بیعت لینے والا اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فیض رساں کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے۔جو فیض پانے والا ہوتا ہے اس کا ہاتھ نیچے ہوتا ہے۔فرمایا جو عطا کرتا ہے وہ ید العلیا رکھتا ہے اور یہی حکمت ہے جس کے نتیجہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بیعت کے وقت دوسرے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے تھے کیونکہ اس وقت آپ کی طرف سے فیض جاری ہوتا تھا۔میں جو فیض جاری کرنے کا ذریعہ بنوں گا یہ میرا فیض نہیں، یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فیض ہے۔میں تو وہ نالی بن رہا ہوں جس میں یہ روحانی پانی بہہ کر آپ تک پہنچنے والا ہے۔اس لئے میرا یہ دعوی نہیں کہ میرا ہاتھ اس لئے اونچا ہے کہ میں فیض میں آپ سے اوپر ہوں۔میں ایک حاجز اور حقیر انسان ہوں مگر جس کے ہاتھ کی مائندگی کر رہا ہوں اس کے ہاتھ کے متعلق خدا نے فرمایا تھا تبدا لله فَوْقَ أَيْدِيهِمْ " کہ یہ اللہ کا ہاتھ ہے جو ان پر ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بیعت عاجز بندوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔اس پہلو سے آپ بیعت میں شامل ہوں۔یہ بیعت ہے کیا ؟ اس سلسلہ میں قرآن کریم کی یہ آیت آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اللہ تعالی فرماتا ہے اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِن الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبه (112)