سلسلہ احمدیہ — Page 605
605 ایک بھاری تعداد غیر از جماعت اور غیر مسلم افراد کی بھی شامل ہے۔یہ مفت علاج رنگ ونسل اور مذہب کے فرق سے بالارہ کر کیا جاتا ہے اور محض خلق اللہ کی بھلائی پیش نظر ہوتی ہے۔مغربی ممالک میں انگلستان اور جرمنی اور افریقن ممالک میں سے گھانا نے جس منظم طریق پر اس کام کو بڑھایا ہے اور پھیلایا ہے وہ قابل تقلید ہے۔انگلستان میں دوران سال چو بیس ہزار سے زائد افراد کو علاج کی سہولت مہیا کی گئی۔جرمنی نے تمھیں ہزار سے زائد مریضوں کو مفت علاج مہیا کیا۔مزید برآں جرمنی نے دوسرے یورپین ممالک کو بھی مفت ادویات مہیا کیں۔گھانا میں بتیس ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔چھوٹے بڑے 32 شفا خانے قائم کئے جاچکے ہیں۔گھانا کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ سارے افریقن ممالک کو مفت ادویات گھانا ہی سے بھیجوائی جاتی ہیں اور مختلف افریقن ممالک کے نوجوانوں کو ہومیو پیتھک طریقہ علاج کی تربیت بھی گھانا کے زیر نگرانی دی جارہی ہے۔انڈونیشیا نے حیرت انگیز طور پر بہت جلد ترقی حاصل کی ہے۔اس سے پہلے انڈونیشیا میں نہ احمدیوں میں اور نہ غیر احمدیوں میں کہیں ہو میو پیتھک کا نام ونشان تک نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ قیوم صاحب کو جزائے خیر دے۔انہوں نے اور ان کے عزیزوں نے خاص طور پر بہت محنت سے کام کیا ہے اور اس قدر تیزی سے ترقی کی ہے کہ اس وقت تک اللہ کے فضل سے تمام ملک میں 198 چھوٹے بڑے شفا خانے قائم ہو چکے ہیں۔یہ بہت بڑی تعداد ہے۔اللہ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔“ اسی ضمن میں حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ صرف عام شفا کی باتیں نہیں ہیں۔یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا بطور الهام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پہلے سے بتا دیا گیا تھا۔اور تائیدی رویا بھی ایسی دکھائی گئیں جن کی تعبیر اس کے سوا ہو نہیں سکتی کہ ہو میو پیتھک کے جو بڑے بڑے ڈبے تقسیم ہوتے ہیں جن میں ہزاروں دوائیاں لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں انہی کا ذکر تھا۔اس کے سوا اس رڈیا کی تعبیر ممکن ہی نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کی تائید میں حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دکھائی گئی تھی۔اب دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام